.

فلسطین: ساٹھ عالمی اداروں اور معاہدات میں شمولیت کی مںظوری

پی ایل او کے مرکزی کونسل کے اجلاس کے بعد باضابطہ اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی تنظیم آزادی پی ایل او کی مرکزی کونسل نے اقوام متحدہ کے ساٹھ مختلف اداروں اور بین الاقوامی معاہدوں کا فلسطینی اتھارٹی کو حصہ بنانے کی منظوری دی ہے۔ پی ایل او کی گورننگ باڈی کی طرف سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق پی ایل او چاہتی ہے کہ '' صدر محمود عباس کی زیر قیادت پختہ ارادہ رکھتی ہے کہ اقوام متحدہ کے مختلف اداروں، بین الاقوامی معاہدات کی رکنیت حاصل کرے۔''

فلسطین کی پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل باسم الصلاحی کے بیان کے مطابق'' امن مذاکرات کیلیے امریکی کوششیں ماہ مارچ کے دوران اس وقت ہوا میں تحلیل ہو گئی تھیں جب اسرائیل نے اسیران کی چوتھی کھیپ وعدے کے مطابق رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔'' ان کے بقول اسرائیل نے فلسطینی اتھارٹی کو اسرائیل کی اس عہد شکنی کا جواب 15 بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کر کے دیا ہے۔''

واضح رہے پی ایل او کا یہ بیان اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاو کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے حماس کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے کے امن مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا تھا اور محمود عباس سے حماس کے اسرائیل اور ہولو کاسٹ کے بارے میں خیالات کا حوالہ دے کر اسے معاہدہ ختم کرنے کیلیے کہا تھا۔ نیتن یاہو نے کہا تھا امن مذاکرات کے حوالے سے گیند اب محمود عباس کی کورٹ میں ہے۔

محمود عباس نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ متحدہ فلسطینی حکومت اسرائیل کو تسلیم کر سکتی ہے، تاہم تشدد کو مسترد کرے گی اور موجود تمام معاہدوں کا احترام کرے گی۔ لیکن اسرائیل کے ایک سینئیر وزیر نے فلسطین کی مخلوط حکومت کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو رد کیا ہے۔ وزیر مالیات نفتالی بینیتے کا کہنا ہے ''حماس کی موجودگی میں کوئی مذاکرات نہیں کریں گے، خواہ یہ ٹیکنو کریٹس کی حکومت ہو۔