.

النصرۃ محاذ حریف گروپوں سے لڑائی بند کرے:ایمن الظواہری

شام کے وسطی صوبے حماہ میں دو کش بم دھماکوں میں 11بچوں سمیت 18 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ کے لیڈر ڈاکٹر ایمن الظواہری نے شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف برسرپیکار النصرۃ محاذ کو حریف جہادی گروپوں کے ساتھ لڑائی بند کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ وسطی صوبے حماہ میں دو خود کش بم دھماکوں میں گیارہ بچوں سمیت اٹھارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ڈاکٹر ایمن الظواہری نے جمعہ کو آن لائن جاری کردہ آڈیو پیغام میں النصرۃ محاذ کے سربراہ ابو محمد الجولانی کو حکم دیا ہے کہ ''محاذ کے تمام فوجی فوری طورپر دوسرے جہادی گروپوں کے ساتھ لڑائی بند کردیں''۔

شام کے مختلف علاقوں میں النصرۃ محاذ کی دولت اسلامی عراق وشام سے وابستہ جنگجوؤں کے ساتھ جنوری سے شدید جھڑپیں ہورہی ہیں جن کے نتیجے میں طرفین کے ہزاروں جنگجو مارے جا چکے ہیں اور اس شامی فوج کو نمایاں فائدہ ہوا ہے اور اس نے جہادیوں میں باہمی انتشار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے زیر قبضہ بہت سے علاقے واپس لے لیے ہیں۔

واضح رہے کہ صدر بشارالاسد کے خلاف تین سال قبل مسلح تحریک کے آغاز کے وقت شام کے دوسرے باغی گروپوں نے عراق سے تعلق رکھنے والی جنگجو تنظیم داعش کا خیرمقدم کیا تھا لیکن اس کے جنگجوؤں نے کچھ عرصے کے بعد ہی دوسرے باغی گروپوں کے خلاف محاذ کھول لیا تھا اور اس دوران عام شہریوں کو بھی سنگدلانہ انداز میں سزائیں دینا شروع کردیں جس پر اس کے خلاف دوسری جہادی تنظیمیں اٹھ کھڑی ہوئیں اور القاعدہ نے بھی اس سے لاتعلقی ظاہر کردی۔

خودکش بم حملے

درایں اثناء شام کے وسطی صوبے حماہ میں جمعہ کو دو کش بم دھماکوں میں گیارہ بچوں سمیت اٹھارہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن اور سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کی اطلاع کے مطابق خودکش بمباروں نے دو قصبوں جبرین اور الحمیری میں دھماکے کیے ہیں۔سانا نے دہشت گردوں پر ان بم حملوں کا الزام عاید کیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ ان دونوں قصبوں میں صدر بشارالاسد کے ہم مذہب علویوں کی اکثریت آباد ہے۔انھوں نے دونوں بم دھماکوں میں پندرہ افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے دوران یہ ہفتہ سب سے ہلاکت آفریں ثابت ہوا ہے اور صرف چار روز میں دو ڈھائی سو افراد بم دھماکوں اور شامی فوج کے فضائِی حملوں میں مارے گئے ہیں۔شمالی شہر حلب میں شامی فوج نے جمعرات کو بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں تینتیس افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے تھے۔اس سے ایک اور روز پہلے شامی فوج نے حلب میں ایک اسکول پر بمباری کی تھی جس میں بچوں سمیت پچیس افراد ہلاک مارے گئے تھے۔

وسطی شہر حمص میں منگل کو دو تباہ کن کاربم دھماکوں میں ایک سو سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔یہ دونوں بم دھماکے حمص کے حکومتی کنٹرول والے علاقے عباسیہ میں ہوئے تھے اور آبزرویٹری کے مطابق جہادیوں کے ایک گروپ نے ان کی ذمے داری قبول کی تھی۔عباسیہ میں علوی اہل تشیع اور عیسائی آبادی کی اکثریت ہے۔