.

عمررسیدہ لبنانی سیاست دانوں کی وارثوں پر نظریں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کہنے کو تو آبادی اور رقبے کے لحاظ سے ایک چھوٹا ملک ہے لیکن سیاسی تنوع اور تجربات کے اعتبار سے یہ دنیا کے بڑے بڑے ملکوں سے آگے ہے۔امریکا اور برطانیہ جیسے بڑے ممالک میں دو جماعتی سیاست چل رہی ہے اور ان کے ہاں دو جماعتیں ہی باری باری برسراقتدار آتی رہتی ہیں۔

لبنان میں ایسا نہیں ہے۔اس ملک میں مذہب اور فرقے کی بنیاد پر سیاسی تقسیم گہری اور وسیع ہے۔اس کا یہ نتیجہ ہے کہ پہلے تو وہاں قریباً دوعشرے تک خانہ جنگی رہی اور مختلف سیاسی ومذہبی گروہ ایک دوسرے کو اپنے حملوں کا نشانہ بناتے رہے تا آنکہ 1990ء میں ان کے درمیان جنگ بندی ہوگئی اور خونریزی کا خاتمہ ہوگیا۔

اس جنگ بندی کے بعد لبنان میں متعدد حکومتیں برسراقتدار آچکی ہیں اور خانہ جنگی کے زمانے میں جنگی سردار کے طور پر بروئے کار رہنے والے سیاست دان ہی لبنانیوں کے منتخب نمائندے ٹھہرے تھے۔ گذشتہ ربع صدی سے اس ملک میں ایسے ہی سیاست اور سیاسی نظام چل رہے ہیں اور ماضی میں ایک دوسرے کے جانی دشمن امن قائم ہونے کے بعد دوست بن گئے تھے۔البتہ اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان فرقہ وارانہ بنیاد پر محاذ آرائی برقرار رہی ہے۔

اس دوران وقفے وقفے سے ملک کے حالات خراب اور درست ہوتے رہے ہیں۔شام میں گذشتہ تین سال سے جاری خانہ جنگی کے بھی لبنانیوں پر اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ ایک تو انھوں نے لاکھوں شامی مہاجرین کا بوجھ سہارا ہوا ہے اور دوسرا شامی صدر بشارالاسد کی حمایت اور مخالفت کی بنا پر بھی وقفے وقفے سے تشدد کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔لبنان کے اہل تشیع بشارالاسد کے حامی ہیں جبکہ اہل سنت ان کے مقابلے میں شامی باغیوں کی حمایت کررہے ہیں۔

حال ہی میں سعودی عرب ،ایران اور امریکا کی مداخلت سے لبنان میں مخلوط قومی حکومت کے قیام کے لیے ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔یہ اور بات ہے کہ اس سمجھوتے کے تحت لبنان کی داخلی صورت حال بہتر نہیں ہوئی ہے اور وہاں آئے دن بم دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔اس تناظر میں لبنان کی خانہ جنگی کے زمانے میں جنگی سردارکا کردار ادا کرنے والے سیاست دان اب اپنے سیاسی وارثوں کو میدان میں اتارنے کے لیے کوشاں ہیں کیونکہ ان میں سے بیشتر سیاست دان عمر رسیدہ ہوچکے ہیں اور وہ اپنی جگہ اپنے بیٹوں اور دامادوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

ان میں دو مسیحی وارلارڈز سمیر جعجع اور مشعل عون کا تذکرہ سب سے پہلے کرتے ہیں۔ان دونوں نے پچیس سال قبل خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد ہتھیار پھینک کر سیاست میں قدم رکھا تھا۔موخرالذکر لبنان کی طاقتور شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے اتحادی بن گئے تھے اور اول الذکر پہلے سابق وزیراعظم رفیق حریری کے ساتھ تھے اور اب ان کے بیٹے سعد حریری کے اتحادی ہیں۔اکسٹھ سالہ سمیر جعجع کی کوئی اولاد نرینہ نہیں ہے۔اس لیے یہ واضح نہیں کہ وہ کس کو اپنا جانشین بناتے ہیں۔

لبنان کی خانہ جنگی کے ایک اور اہم کردار دروز لیڈر ولید جنبلاط ہیں۔ان کی عمر اس وقت 65 برس ہے اور وہ اپنی جانشینی کے لیے اپنے بیٹے تیمور کی تربیت کررہے ہیں۔شمالی لبنان سے تعلق رکھنے والے مسیحی رہ نما سلمان فرنجیح کی عمر انچاس سال ہے۔وہ بھی اپنے بیٹے ٹونی کو سامنے لانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

مسیحی رہ نما مشعل عون زندگی کی اکاسی بہاریں گزار چکے ہیں۔وہ اپنے داماد اور لبنان کے موجودہ وزیرخارجہ جبران باسل کو اپنی جماعت کرسچئین پارٹی کی قیادت سونپنا چاہتے ہیں۔جہاں تک حزب اللہ کا تعلق ہے تو ایران میں بیٹھے اس کے حصص داروں کی یہ ترجیح ہوگی کہ ان کی سرمایہ کاری ادارہ جاتی ہی رہے اور وہ یہ چاہتے ہیں حسن نصراللہ کے بعد جماعت کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے کسی غیر وراثتی عہدے دار کا انتخاب کیا جائے۔

سابق ملیشیا اور اب سیاسی جماعت امل تحریک کے رہ نما نبیہ بری گذشتہ تئیس سال سے لبنانی پارلیمان کے اسپیکر چلے آرہے ہیں۔ان کی عمر چھہتر برس ہے اور انھیں اپنے ہم عمروں میں سب سے زیادہ کایاں سیاست دان سمجھا جاتا ہے۔ان کے بارے میں پہلے تو کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ وہ کس کو اپنا جانشین بنائیں گے لیکن امریکی سفارت خانے کا ایک خفیہ مراسلہ افشاء ہونے سے یہ پتا چلا تھا کہ وہ اپنی سابقہ شادی سے بیٹے عبداللہ کو اپنا جانشین دیکھنا چاہتے ہیں مگر ان کی طاقتور اہلیہ راندہ چھوٹے بیٹے باسل کو ترجیح دے رہی ہیں۔

باسل کا نام اپنے والد کے ساتھ اجلاسوں میں شرکت یا جماعت کے طلبہ ونگ کی صدارت کے دوران نمودار ہوتا رہا ہے اور ان برخوردار کے بارے میں یہ پتا چلا تھا کہ انھوں نے امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں ننانوے ہزار ڈالرز سالانہ کی فیس کے ساتھ ایم بی اے پروگرام میں داخلہ لیا تھا۔امریکا جانے کے بعد سے وہ لبنانی اخبارات کی خبروں میں نہیں ہیں۔توقع ہے کہ وہ اسی سال اپنی ڈگری مکمل کرلیں گے اور 2015ء میں ہونے والے آیندہ پارلیمانی انتخابات میں حصہ لیں گے۔

لبنان کے مذکورہ سیاست دان اب تو دانشور اور مدبر بنے ہوئے ہیں اور ملک کی سیاست سے معاشرت ،مذہب اور میڈیا تک چھائے ہیں لیکن ماضی میں وہ اپنی غلط کاریوں اور غلطیوں کا اعتراف کرچکے ہیں۔ولید جنبلاط نے 1980ء میں ایک انٹرویو میں یہ برملا اعتراف کیا تھا کہ وہ اور دوسرے جنگی سردار مجرم ہیں اور وہ بے گناہ شہریوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔تب انھوں نے کہا تھا:'' لبنانی مسئلے کے حل کے لیے یہ ضروری ہے کہ خانہ جنگی میں ملوث ہر کسی کو سزائیں دی جائیں ورنہ ہم اس داخلی جنگ کے ایک نہ ختم ہونے والے چکر میں پھنس کر رہ جائیں گے''۔