خلیج تعاون کونسل اجلاس، باہمی احترام و عدم مداخلت پر زور
عالمی برادری ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں یکساں موقف اپنائے
خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ نے قرار دیا ہے کہ خلیجی تعاون کونسل کے ارکان کے تعلقات باہمی عزت اور عدم مداخلت کے اصول پر مبنی ہونے چاہییں۔
خلیج وزارتی کونسل کے ریاض میں ہونے والے اجلاس میں اس امر کی از سر نو نشان دہی کی گئی کہ ممبر ملکوں اور ایران کے درمیان ایسے اچھے تعلقات اہم ہیں جو ایک دوسرے کی خود مختاری، معاملات میں عدم مداخلت اور اچھی ہمسائیگی کے اصولوں پر مبنی ہوں، نیز ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال اور دھمکی سے گریز کی پالیسی کی ضرورت ہے۔
خلیج وزارتی کونسل نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران اور مغربی طاقتیں ایرانی جوہری تنازعے کے حوالے سے کسی ایسے حل پر پہنچ جائیں گی، جس میں جوہری توانائی کے پر امن استعمال کی ضمانت دی گئی ہو، نیز ایران کو اس امر کا پابند بنایا جائے کہ وہ جوہری توانائی کسی اور کو منتقل نہ کرے، ایران کو اس امر کا بھی پابند بنایا جائے کہ کسی بھی مرحلے پر ایران اپنے جوہری پروگرام کو فوجی ضروریات کے لیے استعمال نہیں کرے گا۔
کویت کے وزیر خارجہ شیخ صباح خالد الحماد الصباح نے جی سی سی کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر کہا '' ایران کو خطے کے استحکام اور سلامتی کے لیے باہمی تشویش کے معاملات پر توجہ دینی چاہیے۔''
انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ ''ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں متفقہ موقف اختیار کرے تاکہ ایران جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے ساتھ پورا پورا تعاون کرے۔''
خلیج تعاون کونسل نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کی نئی پالیسی کے جی سی سی کے ساتھ تعلقات پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ اجلاس میں مصری صدارتی انتخاب کی تعریف کی گئی۔ نیز فلسطین کی مخلوط حکومت کے قیام کو بھی ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔