.

شام: صدارتی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی

بشارالاسد کی کامیابی یقینی، مزید سات سال کے لیے صدر بن جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں منگل کو صدارتی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور جمعرات کو ابتدائی نتائج متوقع ہیں۔

خانہ جنگی کا شکار ملک میں منعقدہ ان یک طرفہ صدارتی انتخابات میں بشارالاسد کی کامیابی یقینی ہے اور وہ مزید سات سال کے لیے صدر منتخب ہوجائیں گے۔ ان کے مدمقابل دونوں امیدوار ماہر عبدالحفیظ حجار اور حسان عبداللہ النوری کوئی زیادہ جانے پہچانے چہرے نہیں تھے لیکن شام کے صدارتی انتخابات کا نتیجہ مصر میں منعقدہ حالیہ صدارتی انتخابات کے نتائج سے مختلف نہیں ہوگا اور توقع یہی ہے کہ بشارالاسد کے مدمقابل دونوں امیدوار دس فی صد سے زیادہ ووٹ نہیں لے سکیں گے۔

امریکا نے شام میں جاری خانہ جنگی کے پیش نظر ان صدارتی انتخابات کی مذمت کی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان میری حرف نے ایک بیان میں کہا کہ ''شام میں صدارتی انتخابات بے توقیری ہیں اور بشارالاسد کی آج کوئی ساکھ نہیں ہے جس طرح ان کی کل بھی کوئی ساکھ نہیں رہی تھی۔

ترجمان نے کہا کہ ''انتخابات ایک آزاد معاشرے میں لوگوں سے مشاورت کا ایک ذریعہ ہونے چاہئیں اور انھیں ان کے لیڈروں کے انتخاب میں ایک اہم کردار ادا کرنا چاہیے لیکن شام میں منگل کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں جان بوجھ کر لاکھوں شامیوں کو ان کے ووٹ کے حق سے ہی محروم کردیا گیا ہے''۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ اسد رجیم حقیقت سے بالکل کٹا ہوا ہے اور اس نے خاندانی اقتدار کو طول دینے کے لیے ہی انتخابات کا ڈراما رچایا ہے حالانکہ وہ شامی عوام کی امن اور خوشحالی کے لیے امنگوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔

شام میں عملی طور پر گذشتہ پچاس سال میں یہ پہلے صدارتی انتخابات ہیں جن میں ایک سے زیادہ امیدواروں نے حصہ لیا ہے۔اس سے پہلے بشارالاسد اور ان کے والد حافظ الاسد ریفرینڈم نما انتخاب میں صدر بنتے رہے تھے۔بشارالاسد کے بارے میں توقع یہی ہے کہ وہ بآسانی جیت جائیں گے۔وہ 2000ء میں اپنے والد حافظ الاسد کے انتقال کے بعد سے ملک کے صدر چلے آرہے ہیں۔

شام میں گذشتہ تین سال سے زیادہ عرصے سے جاری خانہ جنگی کے پیش نظر صرف حکومت کی عمل داری والے علاقوں ہی میں پولنگ ہوئی ہے لیکن جنگ کے ماحول میں ہونے والی پولنگ کی اعتباریت اور ساکھ کے حوالے سے ابھی سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

شامی حزب اختلاف نے ان انتخابات کو ڈھونگ قراردے کر مسترد کردیا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ عالمی برادری ان کے نتائج کو تسلیم نہیں کرے گی۔ عرب لیگ اور اقوام متحدہ نے بھی ان انتخابات کو مسترد کردیا تھا اور صدر بشارالاسد پر زور دیا تھا کہ وہ اس کے بجائے حزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے پُرامن انتقال اقتدار کی راہ ہموار کریں لیکن اسد حکومت نے عالمی برادری کی مخالفت کے باوجود صدارتی انتخابات منعقد کرائے ہیں۔

واضح رہے کہ مارچ 2011ء سے شام میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہِیں۔ ملک کی قریباً نصف آبادی اندرون اور بیرون ملک مہاجر کیمپوں میں زندگی کے دن کاٹ رہی ہے۔ان میں پچیس لاکھ اپنا گھربار چھوڑ کر بیرون ملک مہاجر کیمپوں میں مقیم ہیں اور ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو شامی سکیورٹی فورسز کی چیرہ دستیوں سے بچنے کے لیے پڑوسی ممالک میں چلے گئے ہیں۔