.

مبارک دور کے وزیر داخلہ کرپشن کے الزامات سے بری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے سابق وزیرداخلہ حبیب العادلی کو بدعنوانی کے الزامات سے بری کردیا ہے۔وہ حسنی مبارک کے دور میں وزیرداخلہ رہے تھے اور انھیں قبل ازیں 2011ء میں ایک عدالت نے منی لانڈرنگ اور ناجائز دولت کمانے کے الزامات میں بارہ سال قید کی سزا سنائی تھی۔

انھوں نے اس سزا کے خلاف اپیل دائر کی تھی اور اعلیٰ عدالت نے ان کے خلاف دائر مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا تھا۔حبیب العادلی پر الزام تھا کہ انھوں نے وزیرداخلہ کی حیثیت سے اپنی ملکیتی زمین کو فروخت کرنے کے لیے پولیس کو بھاری قیمت دینے والے گاہک تلاش کرنے کی ذمے داری سونپی تھی۔

اس سال فروری میں ایک مصری عدالت نے حبیب العادلی کو اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھانے اور پولیس کو اپنی ملکیتی زمین کی فروخت کے لیے استعمال کرنے پر سنائی گئی تین سال جیل کی سزا برقرار رکھی تھی۔اس لیے وہ مذکورہ مقدمے میں بریت کے باوجود جیل ہی میں قید رہیں گے۔

انھیں اور سابق صدر حسنی مبارک کو 2011ء کے اوائل میں عوامی مزاحمتی تحریک کے دوران قریباً ساڑھے آٹھ سو مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن اعلیٰ عدالت نے فنی بنیادوں یہ فیصلہ کالعدم کردیا تھا اور اب ان دونوں کے خلاف چھے سابق پولیس کمانڈروں سمیت اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کی جارہی ہے۔

مصر کی ایک عدالت نے مئی میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کو کرپشن کے ایک اور مقدمے میں قصور وار ثابت ہونے پر تین سال قید سنائی تھی اور ان کے دونوں بیٹوں علاء اور جمال مبارک کو چار چار سال قید کا حکم دیا تھا۔ان تینوں پر صدارتی محل کی تزئین وآرائش کے لیے مختص کردہ دس کروڑ مصری پاؤنڈز (ایک کروڑ چالیس لاکھ ڈالرز) خرد برد کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

تاہم اب حسنی مبارک اور ان کے دور کے سابق عہدے داروں کے کرپشن کے قصوں اور ان کو عدالتوں کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں کی کوئی زیادہ بازگشت نہیں سنی جارہی ہے کیونکہ میڈیا اور عدالتوں میں ان کی جگہ برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی اور ان کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون کے قائدین اور کارکنان نے لے لی ہے۔ انھیں مصری عدالتیں اجتماعی ٹرائل کے بعد تھوک کے حساب پھانسیوں اور عمر قید کی سزائیں سنارہی ہیں اور وہ عجلت میں سیکڑوں کی تعداد میں اخوانیوں کو سرسری سماعتوں کے بعد ہی کڑی سزاؤں کو حکم دے رہی ہیں۔