.

دولت وثروت میں 'داعش' کی معاصر گروپوں پر فوقیت

موصل کے بنکوں اور تجاری مراکز میں جنگجو گروہ کی لوٹ مار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے صوبہ نینویٰ کے مرکزی شہر موصل پر شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام 'داعش' نے قبضے کے بعد شہر کے مرکزی بنک سے 425 ملین ڈالر کی بھاری رقم لوٹ لی ہے۔ لوٹ مار کی کارروائیاں صرف بنکوں تک محدود نہیں بلکہ شہر کے صرافہ بازار اور دیگر تجارتی مراکز میں بھی لوٹ مار کی گئی جس میں بھاری مقدار میں سونا بھی لوٹ لیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق موصل پر قبضے کے بعد 'داعش' کو بنکوں سے بھاری رقوم ملی ہیں جس کے بعد داعش اپنے ہم عصر کسی بھی دوسرے عسکری گروپ سے زیادہ مالدار قرار دیا جا رہا ہے۔ گو کہ آج تک اس نوعیت کے گروپوں کے اصل اثاثوں کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے تاہم موصل پر 'داعش' کا قبضہ اسے صاحب ثروت گروپوں میں شامل ضرور کر گیا ہے۔

مغربی میڈیا کی تجزیاتی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ تحریک طالبان کے پاس 400 ملین ڈالر کی رقم ہے۔ دوسرے نمبر پرکولمبیا سے تعلق رکھنے والی تنظیم 'فارک' کا نام آتا ہے جس کے اثاثوں کی مالیت 350 ملین ڈالر ہے۔ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ 200 ملین ڈالر کی مالک ہے جبکہ صومالیہ کی الشباب کے پاس 100 ملین ڈالر ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ ان تمام گروپوں کی ماں سمجھی جانے والی القاعدہ سب سے غریب ہے اور اس کے پاس صرف 30 ملین ڈالر ہیں۔

موصل پر قبضے سے قبل بھی 'داعش' کو ایک دولت مند عسکری گروپ قرار دیا جاتا رہا ہے کیونکہ تنظیم کے جنگجوؤں کے پاس موجود جدید اور مہنگے ہتھیاروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے پاس دولت کی کوئی کمی نہیں ہے۔

عالمی اقتصادی پابندیوں کے باعث علانیہ طور پر کوئی شخص یا گروپ 'داعش' جیسی تنظیموں کی مالی مدد نہیں کر سکتا۔ ان کی آمدن کے بیشتر ذرائع لوٹ مار، اغواء برائے تاوان، تیل کی اسمگلنگ اور عطیات ہیں جو تنظیم کے حامی چوری چھپے پہنچاتے ہیں۔