.

دولتِ اسلامی عراق وشام نے اسلامی خلافت قائم کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں بر سر پیکار جہادی گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) نے اپنے زیر نگیں علاقوں میں خلافت کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔

داعش کی جانب سے اتوار کو آن لائن ایک ریکارڈنگ جاری کی گئی ہے جس میں اس نے اپنے سربراہ ابو بکر البغدادی کو خلیفہ اور دنیا بھر کے مسلمانوں کا رہ نما قرار دیا ہے۔

داعش کے جنگجوؤں نے 10 جون کے بعد سے عراق کے بیشتر شمالی شہروں پر قبضہ کرکے وہاں اپنا نظام حکومت قائم کرلیا ہے۔ انھوں نے عراقی فوج سے امریکی ساختہ حموی فوجی گاڑیاں اور دوسرے فوجی ساز وسامان پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ اب وہ ان ہتھیائے گئے امریکی ساختہ ہتھیاروں، ہیلی کاپٹروں اور کثیر المقاصد حموی گاڑیوں کو عراقی فورسز کے خلاف لڑائی میں استعمال کر رہے ہیں۔

داعش گذشتہ تین سال سے پڑوسی ملک شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف بھی برسر جنگ ہے اور اس نے شام کے شمالی شہروں پر قبضہ کرکے وہاں بھی اپنا نظام حکومت قائم کررکھا ہے لیکن خانہ جنگی کا شکار اس ملک میں داعش کی اعتدال پسند باغی جنگجو گروہوں کے ساتھ بھی لڑائی ہو رہی ہے۔

داعش نے اپنے زیر نگیں شہروں میں قاضی عدالتیں قائم کررکھی ہیں جہاں مجرموں کو شرعی سزائیں دی جاتی ہیں اور اس جہادی گروپ نے تو اپنے بدعنوان ثابت ہونے والے سرکردہ کارکنان کو بھی کڑی سزائیں دی ہیں اور بعض کو گولیاں مار کر موت سے ہم کنار کرنے سے بھی گریز نہیں کیا ہے۔ اگلے روز ہی انھوں نے صوبہ حلب میں اپنے ایک کارکن کو ٹرک ڈرائیوروں سے چیک پوائنٹس پر لوٹ کھسوٹ کا الزام ثابت ہونے پر گولی مار دی ہے اور اس کی لاش تین روز کے لیے لٹکا دی تھی تاکہ دوسرے اس سے عبرت پکڑیں۔