عراقی کردستان کی آزادی تباہی ہوگی: عبدالفتاح السیسی

کردستان میں ریفرینڈم سےعراق کی متحارب ریاستوں میں تقسیم کی راہ ہموار ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے عراق کے خودمختار علاقے کردستان میں آزادی کے لیے مجوزہ ریفرینڈم کے انعقاد کی مخالفت کردی ہے اور کہا ہے اس سے خطہ تباہی سے دوچار ہوجائے گا اور اس ملک کی تقسیم کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

عبدالفتاح السیسی نے اتوار کو مصر کے مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''کرد جس ریفرینڈم کا مطالبہ کررہے ہیں،یہ درحقیقت عراق کی چھوٹی متحارب ریاستوں میں تباہ کن تقسیم کا آغاز ثابت ہوگا''۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے امریکا اور یورپ کو عراق میں سرکاری فوج کے خلاف برسرپیکار القاعدہ کی ہم نوا نظریاتی تنظیم دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کی اسلامی ریاست کے قیام کے لیے خواہشات کے حوالے سے بھی خبردار کیا تھا اور انھیں بتایا تھا کہ داعش مصر پر قبضے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

صدر السیسی نے کہا کہ انھوں نے امریکا اور یورپ کو داعش کو کسی قسم کی امداد مہیا کرنے پر بھی خبردار کیا ہے اور انھیں بتایا ہے کہ اس کے جنگجو عراق کو نشانہ بنانے کے لیے شام سے نکل آئیں گے۔اس کے بعد وہ اردن اور پھر سعودی عرب میں دراندازی کریں گے۔

عراق کے خود مختار علاقے کردستان کی علاقائی حکومت کے صدر مسعود بارزانی نے گذشتہ جمعرات کو پارلیمان سے ریفرینڈم کی تاریخ مقرر کرنے کے لیے کہا تھا۔اس ریفرینڈم میں کردعوام یہ فیصلہ کریں گے کہ وہ عراق کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا آزاد ملک کی حیثیت سے اس سے الگ ہونا چاہتے ہیں۔مسعود بارزانی نے علاقائی پارلیمان سے آزاد الیکشن کمیشن کے قیام کے لیے بھی کہا ہے جو کردستان کے علاقے میں ریفرینڈم منعقد کرائے گا۔

امریکا نے کردستان میں ریفرینڈم کی مخالفت کردی ہے جبکہ اہم علاقائی ملک ترکی بھی کردوں کی آزادی کے لیے اس استصواب رائے کے حق میں نہیں ہے کیونکہ اس سے خود اس کے جنوب مشرقی علاقے میں اکثریت میں آباد کرد علاحدگی کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔وہ پہلے ہی گذشتہ تین عشروں سے ترکی سے خود مختاری کے لیے مسلح تحریک چلا رہے تھے لیکن دوسال پہلے وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے آغاز کے بعد سے یہ تحریک ٹھنڈی پڑچکی ہے۔

یادرہے کہ وزیراعظم ایردوآن کی حکومت نے کردستان ورکرز پارٹی کے جیل میں قید رہ نما عبداللہ اوجلان کے ساتھ 2012ء میں خفیہ مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔ان کے نتیجے میں کردباغیوں نے مارچ 2013ء میں جنگ بندی کا اعلان کردیا تھا اور ترکی کی فورسز نے بھی ان کے ٹھکانوں پر حملے روک دیے تھے لیکن گذشتہ سال ستمبر سے امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور کرد حکومت سے موعودہ اصلاحات پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں