شام : خاتون نائب صدر کا تقرر ،فاروق الشرع پر خاموشی
81 سالہ نجاح العطار نے صدارتی فرمان کے ذریعے تقرر کے بعد حلف اٹھا لیا
شامی صدر بشارالاسد نے اکاسی سالہ خاتون نجاح العطار کو دوبارہ ملک کی نائب صدر مقرر کردیا ہے لیکن انھوں نے فاروق الشرع کے دوبارہ تقرر سے متعلق کوئی اعلان نہیں کیا۔
شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کی رپورٹ کے مطابق بشارالاسد نے ایک صدارتی فرمان کے ذریعے خاتون نائب صدر کا تقرر کیا ہے لیکن اس میں فاروق الشرع کے تقرر کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔نجاح العطار نائب صدارت کے عہدے پر فائز ہونے والی پہلی شامی خاتون ہیں۔
پچھہتر سالہ فاروق الشرع گذشتہ کچھ عرصے سے شامی منظرنامے سے بالکل غائب ہیں۔بشارالاسد نے جولائی 2013ء میں انھیں باضابطہ طور پر سبکدوش کرنے کے بجائے بعث پارٹی کی ذمے داریوں سے ہٹا دیا تھا۔
شام کے بائیس سال تک وزیرخارجہ رہنے والے فاروق الشرع اہل سنت سے تعلق رکھتے ہیں۔انھوں نے تین سال قبل صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کو کچلنے کے لیے فوج کے استعمال کی مخالفت کی تھی اور بحران کے سیاسی حل کی ضرورت پر زوردیا تھا۔
انھوں نے دسمبر 2012ء میں لبنانی روزنامے الاخبار کے ساتھ انٹرویو میں کہا تھا کہ بشارالاسد فیصلہ کن کامیابی کے لیے فوجی حل کی خواہش کو چھپاتے نہیں ہیں لیکن فوجی قوت کےا ستعمال سے کسی بغاوت کو فرو نہیں کیا جاسکتا ہے۔سکیورٹی فورسز اور فوج کے یونٹوں کی کارروائیوں سے جنگ کا خاتمہ نہیں ہوگا۔
انھوں نے اس انٹرویو میں یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ شامی صدر نے تمام اختیارات اپنی ذات میں مرتکز کررکھے ہیں۔سیاسی اشرافیہ میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے لیکن یہ کوئی زیادہ گہرے اختلافات نہیں ہیں۔فاروق الشرع مشرقی شہر درعا سے تعلق رکھتے ہیں اور اسی شہر سے مارچ 2011ء میں صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا تھا۔
بشارالاسد نے اپنے خلاف ان پُرامن مظاہروں کو کچلنے کے لیے طاقت کا بے مہابا استعمال کیا تھا جس کے بعد مظاہرین نے بھی ہتھیار اٹھا لیے تھے اور یوں شام میں خانہ جنگی چھڑ گئی تھی۔سنہ 2011ء کے وسط سے جاری اس خانہ جنگی کے نتیجے میں ایک لاکھ ستر ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ملک کی نصف آبادی بے گھر ہوچکی ہے۔ان میں سے بیشتر شامی پڑوسی ممالک میں پناہ گزین کیمپوں میں مہاجرت کی زندگی گزار رہے ہیں یا پھر اندرون ملک دربدر ہیں۔
-
بشارالاسد کی تیسری مدتِ صدارت کے لیے حلف برداری
شامی عوام بیرونی قوتوں کی مسلط کردہ ''گندی جنگ'' جیت رہے ہیں:تقریر
مشرق وسطی -
بشارالاسد نے کبھی مستعفی ہونے کا نہیں سوچا: الابراہیمی
باربار کی کوشش کے باوجود شامی رجیم نے فاروق الشرع سے ملنے نہیں دیا تھا
مشرق وسطی -
پیغبر اسلام کے حکم پر بشارالاسد کو ووٹ دیا تھا:مفتیِ اعظم
شام کے مفتیِ اعظم شیخ احمد حسون نے ایک نشری بیان میں کہا ہے کہ ''انھوں نے پیغمبر ...
ایڈیٹر کی پسند -
شام: صدارتی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی
بشارالاسد کی کامیابی یقینی، مزید سات سال کے لیے صدر بن جائیں گے
مشرق وسطی -
بشارالاسد 88.7 فی صد ووٹوں کے ساتھ فتح یاب
ووٹ ڈالنے کی شرح 73.42 فی صد رہی ہے:دستوری عدالت عظمیٰ
مشرق وسطی -
جنگ میں حکومت کا پلڑا بھاری ہو رہا ہے: بشارالاسد
فوج کو ''دہشت گردی'' کے خلاف جنگ میں کامیابیاں مل رہی ہیں
مشرق وسطی