بشارالاسد کی تیسری مدتِ صدارت کے لیے حلف برداری
شامی عوام بیرونی قوتوں کی مسلط کردہ ''گندی جنگ'' جیت رہے ہیں:تقریر
خانہ جنگی کا شکار شام کے صدر بشارالاسد نے سات سال کی تیسری مدتِ صدارت کے لیے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔اس موقع پر انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی عوام بیرونی قوتوں کی مسلط کردہ ''گندی جنگ'' جیت رہے ہیں۔
شام کے سرکاری ٹیلی ویژن پر بدھ کو دمشق کے صدارتی محل سے بشارالاسد کی حلف برداری کی تقریب براہ راست نشر کی گئی ہے۔اس میں بشارالاسد قاسیون پہاڑی میں واقع عوامی محل میں آرہے ہیں۔اس موقع پر ایک بینڈ شام کا قومی ترانہ بجاتا ہے اور وہ گارڈ آف آنر کا معائنہ کرتے ہوئے ایک بڑے ہال میں پہنچ جاتے ہیں جو ارکان پارلیمان ،مسلم اور مسیحی زعماء سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔
بشارالاسد قرآن مجید پر ہاتھ رکھتے ہوئے حلف اٹھاتے ہیں اور وہ ملک کے آئین کی پاسداری کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔ان کے حلف کے الفاظ یہ تھے:''میں اللہ کے روبرو ملک کے آئین ،اس کے قوانین اور جمہوری نظام کے تحفظ اورعوام کے مفادات اور ان کی آزادیوں کے تحفظ کا حلف اٹھاتا ہوں''۔
اس کے بعد شامی صدر نے مختصر تقریر کی۔اس میں انھوں نے شامی عوام کی صدارتی انتخاب میں ووٹ ڈالنے اور ان پر مسلط کردہ گندی جنگ کو شکست دینے پر تعریف کی۔
واضح رہے کہ بشارالاسد گذشتہ تین سال سے جاری اپنے خلاف مسلح عوامی بغاوت کو مغرب کی حمایت یافتہ سازش قرار دیتے چلے آرہے ہیں جس پر ان کے بہ قول دہشت گرد عمل درآمد کررہے ہیں اور یہ عرب بہاریہ تحریکوں سے متاثر کوئی مقبول عوامی بغاوت نہیں ہے۔
ملک میں جاری خانہ جنگی اور حزب اختلاف کے مطالبات کے باوجود بشارالاسد اقتدار چھوڑنے سے انکار کرچکے ہیں۔گذشتہ ماہ منعقدہ صدارتی انتخابات میں وہ واضح اکثریت سے سات سال کی تیسری مدت کے لیے صدر منتخب ہوگئے تھے لیکن شامی حزب اختلاف اور اس کے مغربی اتحادیوں نے ان انتخابات کو ڈھونگ قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔
اسد حکومت نے صرف اپنے عمل داری والے علاقوں میں پولنگ کرائی تھی اور حزب اختلاف کی فورسز کے زیر قبضہ علاقوں میں پولنگ نہیں ہوئی تھی جس کی وجہ سے لاکھوں شامی اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کرسکے تھے۔یہ شام میں گذشتہ پچاس سال میں پہلے صدارتی انتخابات میں تھے جن میں ایک سے زیادہ امیدواروں نے حصہ لیا تھا اور بشارالاسد 88.7 فی صد ووٹ لے کر کامیاب ٹھہرے تھے۔
شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور لاکھوں بے گھر ہوئے ہیں۔ان میں سے بیشتر پڑوسی ممالک میں پناہ گزین کیمپوں میں مہاجرت کی زندگی گزار رہے ہیں یا پھر اندرون ملک دربدر ہیں۔
-
بشارالاسد نے کبھی مستعفی ہونے کا نہیں سوچا: الابراہیمی
باربار کی کوشش کے باوجود شامی رجیم نے فاروق الشرع سے ملنے نہیں دیا تھا
مشرق وسطی -
پیغبر اسلام کے حکم پر بشارالاسد کو ووٹ دیا تھا:مفتیِ اعظم
شام کے مفتیِ اعظم شیخ احمد حسون نے ایک نشری بیان میں کہا ہے کہ ''انھوں نے پیغمبر ...
ایڈیٹر کی پسند -
شام: صدارتی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی
بشارالاسد کی کامیابی یقینی، مزید سات سال کے لیے صدر بن جائیں گے
مشرق وسطی -
بشارالاسد 88.7 فی صد ووٹوں کے ساتھ فتح یاب
ووٹ ڈالنے کی شرح 73.42 فی صد رہی ہے:دستوری عدالت عظمیٰ
مشرق وسطی -
بشارالاسد کے صدارتی انتخاب کے لیے کاغذاتِ نامزدگی منظور
شام کی ایک اعلیٰ عدالت نے صدر بشارالاسد سمیت تین امیدواروں کے آیندہ صدارتی ...
مشرق وسطی -
اسد حکومت ہمارے تعاون سے قائم ہے: ایرانی عہدیدار
'ایران کی مرضی کے بغیر بشارالاسد کو اقتدار سے نہیں ہٹایا جا سکتا'
مشرق وسطی