.

اسرائیل :جان کیری کی جنگ بندی کی تجویز مسترد

نیتن یاہو کا صہیونی فوج کی حماس مخالف کارروائی جاری رکھنے پر اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی جانب سے پیش کردہ نئی تجویز مسترد کردی ہے۔

اسرائیل کے سرکاری ٹیلی ویژن نے جمعہ کی شب اطلاع دی ہے کہ ''سکیورٹی کابینہ نے متفقہ طور پر جان کیری کی غزہ میں جنگ بندی کے لیے پیش کی گئی تجویز مسترد کردی ہے۔تاہم وزراء اس پر غور جاری رکھیں گے''۔

امریکی وزیرخارجہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت کو رکوانے کے لیے کوششوں کے سلسلے میں مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں اور انھوں نے جمعہ کو قاہرہ میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون اور مصری وزیرخارجہ سامح شکری سے الگ الگ ملاقات کی ہے اور ان سے غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے،انھوں نے علاقائی لیڈروں سے بھی اس معاملے پر ٹیلی فون پر بات چیت کی تھی۔

اسرائیلی میڈیا کی اطلاع کے مطابق وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت نے فوج کو غزہ کی پٹی میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی مبینہ زیرزمین سرنگوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور اس کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ حماس کے مزاحمت کاروں نے وہاں سے اسرائیل پر بدستور راکٹ حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جان کیری نے مصر کی جانب سے قبل ازیں پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز ہی کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ پہلے اسرائیل اور حماس لڑائی روک دیں اور اس کے بعد جنگ بندی کے حتمی معاہدے کے لیے تمام فریق مذاکرات کریں۔

غزہ میں اسرائیلی فوج کی جارحیت کا مقابلہ کرنے والی جماعت حماس اس تجویز کو مسترد کرچکی ہے اور اس کا اصرار ہے کہ جنگ بندی سے قبل جامع سمجھوتا ہونا چاہیے۔اس نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ اس مجوزہ جنگ بندی سے قبل اسرائیل علاقے کا مکمل طور پر محاصرہ ختم کرے اور اپنی جیلوں میں قید سیکڑوں فلسطینیوں کو رہا کرے۔

حماس کی دلیل یہ ہے کہ اگر جامع سمجھوتے سے قبل جنگ بندی ہوجاتی ہے تو پھر اسرائیل غزہ کا محاصرہ اپنی شرائط پر ختم کرے گا اور اس کے لیے وہ مختلف جواز پیش کرسکتا ہے۔واضح رہے کہ عید الفطر سے قبل غزہ پر اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ رکوانے کے لیے کوششیں جاری ہیں اور مختلف عالمی رہ نما عید کے موقع پر عارضی طور پر جنگ روکنے پر بھِی اصرار کررہے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے 8 جولائی سے غزہ کی پٹی پر جاری فضائی حملوں اور زمینی گولہ باری میں آٹھ سوتیس فلسطینی شہید ہوگئے ہیں اور زخمیوں کی تعداد پانچ ہزار سے متجاوز ہوچکی ہے۔فلسطینی مجاہدین کے ساتھ جھڑپوں میں چونتیس صہیونی فوجی اور تین عام شہری مارے گئے ہیں۔اسرائیلی فوج کی جانب سے نہتے فلسطینیوں کے خلاف طاقت کے بے مہابا اور وحشیانہ استعمال کے باوجود فلسطینی مجاہدین نے مزاحمت جاری رکھی ہوئی ہے۔اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ ہر نئے دن کے ساتھ اسرائیلی فوج کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔