.

غزہ: حماس کا 24 گھنٹے کے لیے جنگ بندی سے اتفاق

اسرائیلی فوج کے غزہ کی پٹی پر حملوں کے دوبارہ آغاز کے بعد اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے اسرائیل کے ساتھ آیندہ چوبیس گھنٹے کے لیے جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے۔حماس نے اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک دن کے وقفے کے بعد حملے دوبارہ شروع کرنے پر اس فیصلے کا اعلان کیا ہے۔

حماس کے ترجمان سامی ابوزہری نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''اقوام متحدہ کی جانب سے صورت حال کے جائزے کے لیے درخواست کے ردعمل میں مزاحمتی دھڑوں نے مقامی وقت کے مطابق اتوار کو دوپہر دوبجے سے چوبیس گھنٹے کے لیے فائربندی سے اتفاق کیا ہے''۔

اس اعلان سے قبل اسرائیلی فوج نے غزہ پر زمینی ،فضائی اور بحری حملوں کا دوبارہ آغاز کردیا تھا۔اسرائیلی فوج نے بارہ گھنٹے کے لیے حملے روکے تھے اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے غزہ کی سول آبادی کی فلاح کے پیش نظر جنگ بندی کا یہ وقفہ کیا تھا مگر حماس کی جانب سے راکٹ حملے جاری رہنے کے بعد اب دوبارہ حملے کیے جارہے ہیں۔

اس اعلان کی ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے غزہ شہر پر بمباری شروع کردی اور سرحدی علاقے اور جنوبی قصبے خان یونس میں ٹینکوں سے گولہ باری کی جس کے نتیجے میں تین فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔غزہ کی ایمرجنسی سروسز کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا ہے کہ ان میں دو غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے میں سرحد کے نزدیک شہید ہوئے ہیں اور ایک فلسطینی خان یونس کے نزدیک شہید ہوا ہے۔

حماس نے قبل ازیں اسرائیل کے ساتھ عارضی جنگ بندی میں توسیع مسترد کردی تھی اور یہ مطالبہ کیا تھا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی سے اپنے ٹینک نکالے،اس کی بمباری کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کو گھروں میں واپسی کی اجازت دی جائے اور ایمبولینس گاڑیوں کو زخمیوں کو لانے لے جانے کے لیے آزادانہ نقل وحرکت کی اجازت ہونی چاہیے۔

حماس کے استرداد کے بعد اسرائیل کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں فضائی حملوں سے انتباہ کے لیے سائرن بج اٹھے تھے اور فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیل کے جنوب کی جانب راکٹ فائر کیے تھے۔اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق چند ایک راکٹ کھلی جگہوں پر گرے ہیں اور ایک کو اسرائیل کے آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام نے ناکارہ بنا دیا تھا۔حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کے وقفے کے دعوے کے باوجود ٹینکوں سے گولہ باری جاری رکھی تھی اور اس نے ان کے رد عمل میں راکٹ فائر کیے تھے۔

اس دوران غزہ کی پٹی کے نزیک گولہ لگنے سے ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگیا ہے۔اسرائیلی فوج کی ایک خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ فوجی غزہ کی پٹی سے فائر کیے گئے گولے کی زد میں آگیا تھا۔اسرائیلی فوج کے 8 جولائی کو غزہ کی پٹی پر حملے کے بعد فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپوں میں مرنے والے صہیونی فوجیوں کی تعداد تینتالیس ہوگئی ہے جبکہ اسرائیلی جارحیت میں ایک ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔