.

عراقی کردستان میں ایرانی فورسز کے دستے کی آمد

کردستان ورکرزپارٹی پر ایرانی دستے کو کرکوک پہنچانے میں مدد دینے کاالزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے خود مختار شمالی علاقے کردستان کے شہر سلیمانیہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اسی ہفتے ایرانی فوج کا جدید ہتھیاروں سے مسلح دستہ اترا ہے اور یہ عراق کے شمالی شہر کرکوک میں اہل تشیع کے نزدیک مقدس مزارات کے تحفظ کے لیے بھیجا گیا ہے۔

عراقی کرد سکیورٹی فورسز کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ایرانی دستہ ایلیٹ فورس کے دوسو اہلکاروں پر مشتمل تھا اور اس کو پیٹریاٹ یونین آف کردستان (پی یو کے) کے ذریعے کرکوک تک رسائی دی گئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ایران کی ایلیٹ فورس کو اس دستے کو گوریلا جنگ کی تربیت دی گئی ہے اور جدید ترین ہتھیاروں سے مسلح یہ دستہ القاعدہ سے متاثر گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے خلاف جنگ میں حصہ لے گا۔

لندن سے شائع ہونے والے عرب روزنامے الشرق الاوسط میں جمعرات کو چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس عہدے دار کا کہنا تھا کہ ایران کا فوجی دستہ داعش کی جانب سے کرکوک میں شیعہ اور ترکمن کمیونٹیوں پر عاید محاصرے کا بھی خاتمہ کرے گا۔تاہم پی یو کے کے ایک سینیر رکن عارض عبداللہ نے الشرق الاوسط میں شائع شدہ ان دعووں کی تردید کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے ایرانی فوج کی کوئی مدد نہیں کی ہے۔انھوں نے اخباری رپورٹ کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے اور یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ پی یو کے عراقی حکومت کے امور میں مداخلت نہیں کرتی ہے۔

اس عہدے دار نے کہا کہ ''پی یو کے کے خطے کی تمام جماعتوں کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار ہیں لیکن ہم بالاصرار یہ بات کہیں گے کہ کسی ملک کو بھی عراقی کردستان یا عراق کے داخلی امور میں اربیل اور بغداد کی حکومتوں کی منظوری کے بغیر مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے۔

واضح رہے کہ بہت سے بین الاقوامی ذرائع نے عراق میں ایرانی پاسداران انقلاب کی فورسز کی موجودگی کی اطلاع دی ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ کردستان پر ایرانی فوج کوعراق میں مداخلت کے لیے مدد دینے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔