مالکی، ایرانی رجیم کا زوال شروع ہو چکا: مریم رجوی
فرانس میں ایران کی نمائندہ اپوزیشن کا عظیم الشان اجتماع
ایران میں ولایتِ فقیہ کی حکمرانی کو ببانگ دہل للکارنے والی پوزیشن کی نمائندہ خاتون مریم رجوی کا کہنا ہے کہ عراق میں وزیر اعظم نوری المالکی کے خلاف پھوٹنے والی بغاوت دہشت گردی کی تحریک نہیں بلکہ 'عوامی انقلاب' ہے اور اس کے نتیجے میں ایرانی رجیم اور نوری المالکی دونوں اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ "ہم ایرانی عوام کو تاریکی اور غلامی سے نجات دلانے کے لیے جلد آزادی کی فوج تشکیل دیں گے۔"
ان خیالات کا اظہار مریم رجوی نے پیرس میں ہزاروں ایرانیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجتماع میں ایران میں ولایت فقیہ کے مخالفین اور مریم رجوی کی تحریک 'تنظیم خلق' کے حامیوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔ عام کارکنوں کے علاوہ یورپ اور دنیا کے دوسرے خطوں سے ایران میں تبدیلی کے خواہاں 600 اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔
مسز رجوی کا کہنا تھا کہ ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد اور موجودہ صدر حسن روحانی کی پالیسی ایک ہی ہے۔ ہم ایران میں مُلائیت کے استبدادی نظام کو ختم کرنے کے لیے اپنی جدوجہد کو مسلح مزاحمت کی شکل دیں گے اور ایران کو قدامت پرست ٹولے سے نجات دلائیں گے۔
عراق میں جاری عوامی بغاوت کی تحریک کے بارے میں مریم رجوی کا کہنا تھا کہ "میرے نزدیک عراق میں مسلح بغاوت عوامی انقلاب ہے۔ یہ انقلاب تہران نواز نوری المالکی کی آمریت کے خاتمے کا نقطہ آغاز ہے۔ اس تحریک کے بعد عراق اور شام میں آزادی کی تحریکیں ایک نئے موڑ میں داخل ہو جائیں گی جن کے نتیجے میں ایرانی رجیم بھی اپنے انجام کو پہنچے گی۔ عراق اور ایران میں عوامی بغاوت جلد ہی ایران کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
مریم رجوی نے اپنے مفصل خطاب میں دعویٰ کیا کہ پاسداران انقلاب کے جنرل قاسم سلیمانی کی کمان میں 200 کمانڈوز عراق میں عوامی بغاوت کچلنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ اس وقت پاسداران انقلاب نوری المالکی کے زیر انتظام سیکیورٹی اداروں کے ساتھ ہیں۔ ان کی عراق میں موجودگی کا اصل مقصد فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے مدد کی یقین دہانی کے بعد نوری المالکی نے ایران سے اسلحہ اور دیگر جنگی ساز و سامان طلب کیا ہے۔ ایرانی حکومت اپنی بقاء کی جنگ کے لیے اپنے کٹھ پُتلیوں کی مدد ضرور کرے گی۔
مریم رجوی کا کہنا تھا کہ شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف بر سر جنگ اپوزیشن اور ان کا ایران کے بارے میں موقف ایک ہے۔ شامی اپوزیشن میں اپنے ملک میں ایران کی مداخلت کے خلاف ہیں۔
کل جمعہ کو فرانس کے دارالحکومت پیرس کے نواح میں منعقدہ ایرانی اپوزیشن کا یہ عظیم الشان اجتماع تھا جس میں یورپ، امریکا، آسٹریلیا، کینیڈا اور مجموعی طور پر 69 عرب اور مسلمان ممالک میں مقیم 500 ایرانی مندوبین نے شرکت کی۔ ان میں ایران کے سابق وزراء،ارکان پارلیمان اوردیگر اپوزیشن راہ نما شامل تھے۔
اپوزیشن کے اجتماع میں ایران میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، صدر حسن روحانی کی جمہوریت دُشمن پالیسیوں، سیاسی کارکنوں کا ماورائے عدالت قتل، شام، عراق، لبنان اور دوسرے ملکوں میں تہران کی مداخلت اور ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر روشنی ڈالی گئی۔
بیرون ملک ایرانی اپوزیشن کی قیادت نے نوری المالکی کی حکومت بچانے کے لیے ایرانی حکومت کی مداخلت کی پر زور مذمت کی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تہران کو بغداد میں مداخلت سے روکیں۔ نیز ایران کے جوہری پروگرام پرکسی غیر منصفانہ فیصلے سے سختی سے گریز کیا جائے۔
تقریب سے نیویارک کے سابق میئر اور صدارتی امیدوار روڈی جولیانی نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں حالیہ شورش نے لاکھوں عراقی شہریوں کی زندگیوں کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق کی دِگرگوں صورت حال کا ذمہ دار نوری المالکی اور ایران ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور نوری المالکی کا اتحاد ہر صورت میں ٹوٹنا چاہیے۔
مسٹر جولیانی کا کہنا تھا کہ اصلاح پسند حسن روحانی کے برسراقتدار آنے کے بعد ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال کی بہتری کی امید تھی لیکن ان کی حکومت محمود احمدی نژاد کے دور سےبھی بدتر ثابت ہوئی ہے۔
-
عراق: مجاہدین خلق کے آخری دستے نے بھی اشرف کیمپ چھوڑ دیا
تنظیم نے ابتدا میں کیمپ چھوڑنے کے مطالبے کی مزاحمت کی
مشرق وسطی -
ایرانی اپوزیشن جماعت "مجاھدین خلق" کے 71 ارکان عراق سے البانیا منتقل
البانیا مجاھدین خلق کے 210 اور جرمنی 100 ارکان کو پناہ دے گا
بين الاقوامى -
لندن سے ایرانی اپوزیشن ٹی وی چینل رھا کا اجرا
'چینل آزادی اور جمہوریت کے لئے کام کرے گا'
بين الاقوامى