.

غزہ: اسرائیل کے مخبر 18 فلسطینی موت سے ہم کنار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ میں اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کی سکیورٹی فورسز نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے جُرم میں اٹھارہ افراد کو قصور وار قرار دے کر موت سے ہم کنار کردیا ہے۔انھیں یہ سزا حماس کے تین سرکردہ کمانڈروں کی شہادت کے صرف ایک روز بعد دی گئی ہے۔

عینی شاہدین اور حماس سے وابستہ ویب سائٹ المجد نے اطلاع دی ہے کہ سات فلسطینیوں کو اسرائیل کا مخبر ہونے کے شُبے میں نماز جمعہ کے بعد غزہ کے مرکزی چوک میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق ان افراد کے سرڈھانپے ہوئے تھے اور ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔انھیں نقاب پوش مسلح افراد نے ایک مسجد کے باہر نمازیوں کے ایک مجمعے کے سامنے گولیاں مار کر ہلاک کردیا ہے۔

قبل ازیں حماس کی ویب سائٹ الرائی پر یہ اطلاع دی گِئی تھی کہ گیارہ افراد کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے گولیاں مار کر قتل کردیا گیا ہے اور یہی سزا جلد ہی دوسرے افراد کو بھی دی جارہی ہے۔

حماس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''موجودہ حالات میں مجبوراً ہمیں اس قسم کے فیصلے کرنے پڑرہے ہیں''۔ان اٹھارہ افراد کو اسرائیلی فوج کے گذشتہ روز غزہ پر فضائی حملوں میں حماس کے تین سرکردہ کمانڈروں کی شہادت کے بعد جاسوسی کے شُبے میں قتل کیا گیا ہے۔ان مخبروں نے ہی مبینہ طور پر اسرائیل کو حماس کے کمانڈروں کے اتاپتا کے بارے میں اطلاع دی تھی جس کے جُرم میں انھیں حماس کی فوری انصاف کی عدالتوں نے سزائے موت کا حکم دیا تھا۔

غزہ میں ایک سکیورٹی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ان میں سے گیارہ افراد کو عدالتوں نے سرسری سماعت کے بعد سزائے موت کا حکم دیا تھا اور ان مُشتبہ مخبروں کو غزہ شہر میں پولیس کے ہیڈکوارٹرز میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

غزہ کی پٹی میں نہتے فلسطینیوں پر چھے ہفتے قبل اسرائیلی فوج کی جارحیت کے آغاز کے بعد یہ تیسرا موقع ہے کہ حماس نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے جرم میں فلسطینیوں کو ہلاک کرنے کی اطلاع دی ہے۔

اسرائیل حماس کے کمانڈروں کے ٹھکانوں کا ٹھیک ٹھیک پتا چلانے کے لیے ایک حد تک مقامی مخبروں پر انحصار کرتا ہے۔اس نے غزہ سے 2005ء میں صہیونی فوج کے انخلاء کے بعد سے بلیک میل حربوں اور بیرون ملک جانے کے اجازت ناموں کا لالچ دے کر اپنے مخبروں کا ایک نیٹ ورک قائم کررکھا ہے اور ان کی نشان دہی پر ہی صہیونی فوج نے جمعرات کو حماس کے تین سرکردہ کمانڈروں کو اپنی بمباری میں نشانہ بنایا تھا۔