.

برطانیہ کے بعد فرانسیسی طیارے بھی داعش کے تعاقب میں

داعش سے دنیا کو خطرہ ہے: صدر فرانس، حملے تیز کریں: عراق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس نے عراق میں داعش کے خلاف امریکی مہم کا حصہ بنتے ہوئے اپنے جنگی طیاروں کی نگرانی کے مقاصد کے لیے پروازیں شروع کر دی ہیں۔ یہ بات فرانس کے وزیر دفاع نے پیر کے روز بتائی ہے۔

وزیر دفاع کے مطابق آج پیر کی صبح ہدف کا پتہ چلانے کے لیے فرانس کے طیارے پرواز کر رہے ہیں ، یہ پروازیں عراقی حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد کی جا رہی ہیں۔ اس اعلان کے کچھ ہی دیر بعد دو فرانسیسی جنگی طیاروں نے خلیج میں موجود بیس سے پرواز بھری اور عراق پہنچ گئے۔

اس امر کا اعلان بعد میں فرانس کے صدر اولاندے نے بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا ''داعش پوری دنیا کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔'' واضح رہے آج ہی فرانس میں داعش سے متعلق چیلنجوں پر غور کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس شروع ہوئی ہے۔

یہ کانفرنس برطانیہ کے یرغمال بنائے گئے شہری کی وجہ سے ہنگامی طور پر بلائی گئی ہے۔ ڈیوڈ ہینیز تیسرا یورپی ہے جسے داعش نے یرغمال بنایا ہے۔

دوسری جانب برطانوی طیارے اس سے پہلے ہی داعش کی نگرانی کے لیے عراق میں مسلسل پروازیں کر رہے ہیں۔ تاہم برطانوی طیاروں نے ابھی داعش کے ٹھکانوں پر بمباری شروع نہیں کی ہے۔

فرانس کے وزیر دفاع لی ڈریان کے مطابق داعش ایک سنگین خطرہ ہے۔ جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ دریں اثناء عراق کے صدر نے داعش کے عراقی ٹھکانوں پر تیز رفتار حملوں پر زور دیا ہے۔ عراقی صدر کے بقول اگر حملوں میں تاخیر ہوئی تو داعش مزید علاقوں پر قابض ہو جائے گی اور عراق کے لیے یہ بات مزید خطرناک بن جائے گی۔