.

ترکی شامی مہاجرین کے لیے محفوظ زون پر تیار

عالمی برادری کو ساتھ ملا کر اقدامات چاہتے ہیں: ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ شام میں محفوظ زون بنانے کے لیے ترک فوج بروئےکار آسکتی ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ عالمی سطح پر معاہدہ طے پا جائے اور داعش کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے شہریوں کے لیے محفوظ زون بنایا جائے۔

تاہم ترکی نے فی الحال امریکا کے زیر قیادت شام اور عراق میں داعش کے خلاف وسیع البنیاد اتحاد میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا کردار قبول نہیں کیا ہے۔

دوسری جانب ترک حکومت کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ طیب ایردوآن داعش مخالف ممکنہ اتحاد میں ترکی کے کردار پر عالمی رہنماوں کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

طیب ایردوآن نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو کے دوران کہا کہ ترکی فوج کے کردار کو بروئے کارلانے کو غلط سمجھتا ہے۔ اسی انٹرویو میں البتہ انہوں نے بات چیت جاری ہونے کا بتایا۔

صدر نے کہا "ذمہ داریوں کی تقسیم کے حوالے سے ہر ملک کا ایک خاص کردار ہو گا، اس تناظر میں ترکی کا جو بھی کردار ہوگا وہ ادا کیا جائے گا۔"

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا "صرف فضائی کارروائیوں سے دہشت گردوں کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اسے مجموعی طور پر دیکھنا ہوگا۔"

ترک صدر کا موقف تھا ترکی اپنی سرحدوں کا تحفظ کرے گا۔ تاہم ضروری اقدامات پارلیمنٹ کے مینڈیٹ کے بعد کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا "کوئی اور آپ کی سرحدوں کی حفاظت نہیں کر سکتا، کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی اور آئے اور آپ کی حفاظت کرے۔ ہمیں خود ہی اپنی سرحدوں کا تحفظ کرنا ہوگا۔"

شام سے آنے والے پناہ گزینوں کے بارے میں ایک سوال پر ترکی کے صدر نے کہا "ہم از خود اس صورت حال کو اکیلے نہیں دیکھ سکتے ہیں،اس کے لیے عالمی برادری کو ساتھ ملانا چاہیں گے تاکہ اس کو قانونی اور اخلاقی جواز میسر آسکے۔"