.

فرانس کا ایک پورا خاندان شام کے جہادیوں میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی حکومت اپنے شہریوں کو شام میں جاری خانہ جنگی میں شرکت سے روکنے کے لیے کوشاں ہے مگراس کے باجود بڑی تعداد میں فرانسیسی جہادیوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ فرانسیسی جوڈیشل ذرائع نے خبر رساں ایجنسی"اے ایف پی" کو بتایا ہے کہ ان کے ملک سے تعلق رکھنے والے ایک خاندن کے 11 افراد مبینہ طورپر شامی جہادیوں میں شامل ہونے کے لیے دمشق روانہ ہو چکے ہیں۔

فرانسیسی پراسیکیوٹر برائے انسداد دہشت گردی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ایک مقامی مسلمان خاندان کے ایک درجن کے قریب افراد کچھ عرصے سے غائب ہیں۔ ان کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ شام کے جہادیوں میں شامل ہونے کے لیے دمشق جا چکے ہیں تاہم حکام اس امرکی مزید چھان بین جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ جنوبی فرانس کے شہر نیس سے تعلق رکھنے والے شدت پسند مسلمان خاندان کے افراد ستمبر کے آخر میں ملک چھوڑ گئے تھے۔ ان میں دو سگے بھائی، ان کی والدہ، بیگمات اور ان کی اولاد شامل ہے۔ مبینہ طور پر شام جانے والے اس خاندان میں ایک کم عمربچہ بھی شامل ہے۔

خیال رہے کہ فرانس میں مقامی مسلمانوں اور وہاں پر مقیم غیرملکی تارکین وطن کی بڑی تعداد شام کے جہادی گروپوں میں شمولیت کے لیے نقل مکانی کر رہی ہے۔ فرانسیسی پولیس اور انسداد دہشت گردی حکام نے رواں سال میں اب تک ایسے 70 کیسز کی تحقیقات کی ہیں۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ مجموعی طور پر فرانس کے کم سے کم 1000 افراد جہادی سرگرمیوں میں‌ ملوث ہیں۔ فرانسیسی وزیراعظم مانویل فلس کا کہنا ہے کہ ان کے ملک سے 580 افراد شام میں جاری خانہ جنگی میں شامل ہونے کی خاطر دمشق فرار ہو چکے ہیں۔