فلسطین کی قومی حکومت کا غزہ میں پہلا اجلاس
وزیراعظم رامی حمداللہ کا اسرائیلی بمباری میں تباہ شدہ علاقوں کا دورہ
فلسطینی وزیراعظم رامی حمداللہ نے اپنی قومی اتحاد کی حکومت کا غزہ شہر میں پہلی مرتبہ اجلاس منعقد کیا ہے۔
رائیٹرز کی اطلاع کے مطابق صدر محمود عباس کی جماعت فتح کے وفادار سکیورٹی اہلکاروں اور حماس کے تحت وزارت داخلہ کے پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری نے رامی حمداللہ کا غزہ آمد پر خیرمقدم کیا ہے اور انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔
2007ء میں فتح کے حامیوں کے غزہ کی پٹی سے دیس نکالے کے بعد فلسطین کی قومی اتحاد کی کابینہ کا پہلی مرتبہ غزہ شہر میں اجلاس منعقد کیا جارہا ہے اور اس کا ایک مقصد قاہرہ میں 21 اکتوبر کو ہونے والی عالمی امدادی کانفرنس کے شرکاء کو یہ باور کرانا ہے کہ فلسطینیوں کی صفوں میں اتحاد ہے۔قومی حکومت میں تمام فلسطینی دھڑے شامل ہیں۔
رامی حمداللہ نے اسرائیل کی جولائی اور اگست میں پچاس روزہ وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر اورعلاقوں کا بھی جائزہ لیا ہے۔ان کے اندازے کے مطابق غزہ میں تعمیر نو کے لیے چار ارب ڈالرز کی رقم درکار ہوگی اور تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل میں تین سال لگیں گے۔
انھوں نے اہلِ غزہ سے مخاطب ہوکر کہا ہے کہ میں صدر محمود عباس کی نمائندگی اور قومی اتحاد کی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے یہاں آیا ہوں تاکہ آپ کی ضروریات کا اندازہ کیا جاسکے اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک جامع ورکشاپ کا انعقاد کیا جائے۔
-
حماس ملازمین کو واجبات دینے پربائیکاٹ کی دھمکی
رامی حمداللہ کی سربراہی میں فلسطینی حکومت مالی بحران سے دوچار
مشرق وسطی -
اقوام متحدہ ایلچی : فلسطینی قومی حکومت کے لیے حمایت
اسرائیل اور مصر سے غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ
مشرق وسطی -
فلسطینی حکومت کے حق میں امریکی بیان پر اسرائیل مایوس
امریکی بیان سے ہمیں سخت مایوسی ہوئی ہے: اسرائیلی حکام
مشرق وسطی -
فلسطینی مخلوط حکومت نے حلف اٹھا لیا
مسئلہ فلسطین کو نقصان پہنچانے والی خلیج ختم ہو گئی: محمود عباس
مشرق وسطی -
مخلوط فلسطینی حکومت، اعلان سے پہلے غزہ پر فضائی حملہ
اسرائیلی فوجی ترجمان نے راکٹ حملے کی وجہ بتا دی
مشرق وسطی -
"دنیا فلسطینی حکومت کو تسلیم کرنے میں عجلت نہ کرے"
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی عالمی برادری کو وارننگ
مشرق وسطی