.

امریکا کو کوبانی پر گہری تشویش ہے:اوباما

کوبانی کے آس پاس فضائی حملوں سے داعش کی پیش قدمی رُک گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے شام کے سرحدی شہر کوبانی کی صورت حال کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا کی قیادت میں اتحاد اس شہر اور عراق کے مغربی علاقے میں دولت اسلامیہ (داعش) کے خلاف فضائی حملے جاری رکھے گا۔

انھوں نے یہ بات منگل کی شب داعش کے خلاف جنگ میں بیس سے زیادہ اتحادی ممالک سے تعلق رکھنے والے کمانڈروں کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکی حکومت کوبانی کے علاوہ عراق کے مغربی صوبے الانبار میں بھی لڑائی پر توجہ مرکوز کررہی ہے اور ان دونوں علاقوں پر فضائی حملے جاری رہیں گے۔

صدر اوباما نے دعویٰ کیا ہے کہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف جنگی مہم میں بعض اہم کامیابیاں ملی ہیں۔انھوں نے اس ضمن میں عراق میں موصل ڈیم سے داعش کا قبضہ چھڑانے کا حوالہ دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''اتحاد کے فوجی سربراہان اس بات پر متفق ہیں کہ داعش کے خلاف یہ جنگی مہم طویل المیعاد ہوسکتی ہے۔اس کے دوران ناکامیاں اور کامیابیاں دونوں ہوں گی لیکن ہم اپنے مقاصد میں متحد ہیں''۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ داعش کی جانب راغب ہونے والوں کو روکنے کے لیے ایک متبادل وژن کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔

روس کے ساتھ سراغرسانی کا تبادلہ

درایں اثناء امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ روس اور امریکا نے داعش کے خلاف جنگ میں انٹیلی جنس کے تبادلے سے اتفاق کیا ہے۔انھوں نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ انھوں نے پیرس میں اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ملاقات میں داعش سے متعلق سراغرسانی بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا ہے اور لاروف کا کہنا تھا کہ اس وقت روس سے تعلق رکھنے والے پانچ سو جنگجو داعش میں شامل ہوکر عراق اور شام میں لڑرہے ہیں۔

قبل ازیں وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ امریکا کی داعش کے خلاف اختیار کردہ حکمتِ عملی کامیاب جا رہی ہے۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ایرنسٹ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم اس حکمتِ عملی پر عمل درآمد کے ابتدائی ایام میں ہیں۔ابتدائی شواہد سے عیاں ہے کہ یہ کامیاب جارہی ہے''۔

ترجمان کے بہ قول اب تک ایسے مراحل بھی آئے ہیں کہ فوجی قوت کے استعمال سے داعش کی پیش قدمی کو روک دیا گیا ہے یا اس کو انسانی اہداف کے محاصرے سے روکا گیا ہے۔ تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ اس جنگ کا فوری خاتمہ ممکن نہیں ہوگا اور یہ آسان بھی نہیں ہے۔

مسٹر جوش ایرنسٹ نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ ''داعش کے خلاف جنگ کے لیے امریکا کی زمینی فوج نہیں بھیجی جائے گی بلکہ عراقی سکیورٹی فورسز کی صلاحیت کار میں اضافہ کیا جائے گا اور شام میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے حزب اختلاف کے جنگجوؤں کی صلاحیت بڑھائی جائے گی۔یہ اتحادیوں کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے اور اس سے میدان جنگ میں نمایاں نتائج ملنے کی توقع ہے''۔

کوبانی پر 21 فضائی حملے

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے شام کے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شہر کوبانی کے نواح میں دولت اسلامی (داعش) کے جنگجوؤں پر سوموار اور منگل کو اکیس فضائی حملے کیے ہیں جس کے بعد ان کی کوبانی کی جانب پیش قدمی سست روی کا شکار ہوگئی ہے۔

امریکی فوج کی مرکزی کمان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق کوبانی کا محاصرہ کرنے والے داعش کے جنگجوؤں پر اب تک یہ تباہ کن بمباری ہے اور اس میں ان کے دو ٹھکانوں ،ایک ٹرک ،دو گاڑیوں ،تین مکانوں اور متعدد دوسرے اہداف کو تباہ کردیا گیا ہے۔اتحادی طیاروں نے شام کے مشرق میں تیل صاف کرنے کے ایک چھوٹے کارخانے پر حملہ کیا گیا ہے۔بیان میں ان حملوں میں داعش کی ہلاکتوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

امریکا کی مرکزی کمان نے بیان میں ایسے اشارے ملنے کا دعویٰ کیا ہے ،جن سے پتا چلا ہے کہ کوبانی کے نواح میں فضائی حملوں کے بعد داعش کی پیش قدمی سست رفتار ہوگئی ہے۔ تاہم برسرزمین صورت حال ابھی کشیدہ ہے۔داعش کے جنگجواس علاقے پر قبضے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ کرد ملیشیا نے ان کی مزاحمت جاری رکھی ہوئی ہے۔

امریکا اوراس کے اتحادیوں کے ان فضائی حملوں کا بڑا مقصد داعش کی کمک کو روکنا اور اس کی کوبانی پر قبضے کے لیے عسکری طاقت کو تہس نہس کرنا ہے تا کہ وہ کرد جنگجوؤں کے خلاف پیش قدمی نہ کرسکیں۔سنٹرل کمان کا کہنا ہے کہ امریکا کے لڑاکا جیٹ اور بمباروں کے علاوہ سعودی عرب کے لڑاکا طیارے نے بھی ان حملوں میں حصہ لیا ہے۔

داعش نے گذشتہ تین ہفتوں سے کوبانی کا محاصرہ کررکھا ہے اور امریکا کے لڑاکا طیاروں کی گذشتہ دنوں کے دوران تباہ کن بمباری کے باوجود اس محاصرے کو ختم نہیں کیا ،اپنی پیش قدمی جاری رکھی ہے اور اس شہر کے قریباً نصف حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔

دوسری جانب عراق کے مغربی صوبے الانبار میں بھی داعش کے جنگجوؤں نے پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔سنٹرل کمان کی اطلاع کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران اتحادی طیاروں نے شمالی شہر کرکوک کے جنوب مغرب میں ایک فضائی حملہ کیا ہے جس میں داعش کی دو گاڑیوں کو تباہ کردیا گیا ہے۔