.

لبنان: اسلام پسندوں اور فوج میں تصادم، 16 زخمی

پر تشدد واقعہ ملک کے دوسرے بڑے شہر طرابلس میں پیش آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے شہر طرابلس میں اسلامی عسکریت پسندوں اور فوج کے درمیان تصادم کے دوران چھ فوجیوں سمیت کم از کم 16 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ تشدد کا یہ واقعہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب دیر سے پیش آیا ہے۔

تصادم میں تین عام شہری اور چھ اسلامی عسکریت پسند زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ طرابلس کو لبنان کا دوسرا بڑا شہر مانا جاتا ہے۔ پر تشدد واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے چھ اسلام پسندوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ تین عام شہری دوطرفہ فائرنگ کی زد میں آ جانے کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔ اس تصادم کی فوری وجہ یہ افواہ بنی کہ فوج کے زیر حراست ایک اہم دہشت گرد ساحلی علاقے میں ہلاک ہو گیا ہے۔

اس اہم دہشت گرد کا نام احمد سلیم میقاتی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ میقاتی داعش کے بڑے کمانڈروں میں سے ایک ہے۔

واضح رہے پڑوسی ملک شام میں جاری خانہ جنگی کے بعد سے طرابلس سنی عسکریت پسندوں اور علویوں کے درمیان تصادم کے واقعات کا مسلسل مرکز بنا ہوا ہے ۔

سنی عسکریت پسند لبنانی فوج سے بھی نالاں ہیں کہ فوج سنی مسلمانوں کو نشانہ بناتی ہے اور اسد رجیم کی اتحادی حزب اللہ کے ساتھ تعاون کرتی ہے۔ حزب اللہ کے سینکڑوں جنگجوشام میں اسد رجیم کی مدد کر رہے ہیں۔