مسجد الاقصیٰ میں جھڑپیں، اردن نے سفیر واپس بلا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اردن کی حکومت نے مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد تل ابیب میں متعیّن اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔

اردن نے مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں باضابطہ طور پر شکایت دائر کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی فورسز نے مسجد الاقصیٰ میں صہیونی ریاست کی چیرہ دستیوں کے خلاف دھرنا دینے والے فلسطینیوں کو زبردستی اٹھانے کے لیے دھاوا بول دیا تھا۔

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی مظاہرین نے مسجد میں دراندازی کرنے والے اسرائیلی پولیس کے اہلکاروں کی جانب پتھراؤ کیا تھا۔مسجد الاقصیٰ کے فلسطینی منتظم عمرالکسوانی نے بتایا ہے کہ پولیس مسجد میں داخل ہوگئی تھی اور اس کے ساتھ جھڑپوں میں بیس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی پولیس کے ترجمان میکی روزنفیلڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ''پولیس علاقے میں داخل ہوئی تھی،اس نے نقاب پوش مظاہرین کو پیچھے دھکیل دیا اور وہ واپس الاقصیٰ کے اندر چلے گئے تھے۔پولیس نے مسجد کا داخلی دروازہ بند کردیا تھا لیکن وہ اندر داخل نہیں ہوئی ہے''۔

العربیہ کے نمائندے نے بتایا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے مختصر وقت کے لیے مسجد کا داخلی دروازہ بند کردیا تھا اور پھر اس کو جھڑپوں کے بعد دوبارہ کھول دیا ہے۔

اسرائیل نے گذشتہ بدھ کو بھی ایک انتہا پسند یہودی آبادکار پر فائرنگ کے واقعہ کے بعد مسجد الاقصیٰ کو مسلمانوں کے لیے بند کردیا تھا اور ایک روز بعد گذشتہ جمعرات کو دوبارہ کھول دیا تھا۔اس انتہا پسند یہودی ربی پر فائرنگ کے بعد سے مقبوضہ بیت المقدس میں کشیدگی پائی جارہی ہے۔اسرائیلی پولیس نے اس پر مبینہ طور پر فائرنگ کرنے والے فلسطینی نوجوان معتز حجازی کو گولی مار کر شہید کردیا تھا۔اس پر الزام عاید کیا گیا تھا کہ اس نے یہودی آباد کار کو ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی۔

واضح رہے کہ اردن مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں کے مقدس مقامات کی دیکھ بھال کا ذمے دار ہے اور وہ مسجد الاقصیٰ میں کوئی خلاف ورزی ہونے کی صورت میں اسرائیل سے شکایت کرتا ہے۔ انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے حالیہ دنوں میں مسجد الاقصیٰ میں داخلے کی متعدد مرتبہ کوششیں کی گئی ہیں اور ان کی مزاحمت کرنے والے فلسطینی نوجوانوں کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوچکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں