.

حسنی مبارک کی بریت جج کے لیے وبال جان بن گئی

قتل کی دھمکیوں کے بعد جسٹس الرشیدی کی سیکیورٹی میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں عوامی احتجاجی تحریک کے دوران سیکڑوں شہریوں کو قتل کرانے کے مشہور مقدمہ میں بریت کا فیصلہ سنانے والے جج کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے ہیں۔

قاہرہ کی القرن عدالت کے جج جسٹس محمود کامل الرشیدی کو جان سے مار ڈالنے کی دھمکیوں کے بعد ان کی رہائش گاہ اور آمد ورفت کے راستوں کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ مصری جج جسٹس محمود کامل الرشیدی نے رواں ہفتے کے آغاز میں سابق معزول صدر حسنی مبارک، ان کے فرزندوں جمال اور علاء مبارک، سابق وزیر داخلہ حبیب العادلی سمیت ان کے کئی معاونین کو جنوری 2011ء کی بغاوت کے دوران سیکڑوں شہریوں کے قتل عام کے مقدمہ سے بری کر دیا تھا۔ یہ مقدمہ سابق معزول صدر محمد حسنی مبارک کی مدعیت میں دائر کیا گیا تھا۔

عدالت کے اس فیصلے پر ملک بھر میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے اور فیصلہ سنانے والے جج کو حسنی مبارک کا ’’کٹھ پتلی‘‘ قرار دے کر اس کے قتل کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

نامعلوم حلقوں کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں میں کہا گیا ہے کہ وہ جسٹس الرشیدی کی رہائشگاہ اور ان کے دیگر ٹھکانوں کو دھماکوں سے اڑائیں گے اور خود انہیں بھی ایک سفاک ڈکٹیر کو بری کرنے پر قتل کریں گے۔

قاہرہ کے ایک سیکیورٹی ذریعے نے’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ دھمکیاں ملنے کے بعد جسٹس محمود کامل الرشیدی کی سوئیز گورنری میں موجود رہائش گاہ کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

پولیس اور دوسرے سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی بڑی تعداد نے جسٹس الرشیدی کی رہائش گاہ کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور ان کی عدالت آمد ورفت کے راستوں کی بھی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ قاہرہ اور سوئیز کے درمیان سڑکوں پر جگہ جگہ ناکے لگائے ہیں اور خفیہ اداروں کے اہلکار بھی گشت کر رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس الرشیدی کی جان کو حقیقی معنوں میں خطرات لاحق ہیں کیونکہ عسکریت پسندوں کی جانب سے ان پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔

قاہرہ کے ایک جوڈیشل ذرائع نے بتایا کہ جسٹس الرشیدی اور مصر کی اپیل کورٹ کے چیف جسٹس ایمن عباس کے درمیان ایک ملاقات بھی ہوئی ہے۔ اس ملاقات میں بھی جسٹس الرشیدی کو دی گئی دھمکیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق جسٹس محمود الرشیدی نے بتایا کہ وہ ایک پیچیدہ بیماری کے علاج اور سرجری کے لیے بیرون ملک سفر کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ سفر کی صورت میں انکی عدالت میں زیر التوا بعض مقدمات کی سماعت موخر ہو سکتی ہے۔ اپیل کورٹ کے چیف جج نے بھی وزیر داخلہ میجر جنرل محمد ابراہیم کو جسٹس الرشیدی اور ان کے اہل خانہ کو ہرممکن تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔