.

لبنان میں گرفتار خاتون داعش کے خلیفہ کی اہلیہ نہیں:عراق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ لبنان میں حکام کے زیرحراست خاتون دولت اسلامی (داعش) کے خلیفہ ابوبکر البغدادی کی اہلیہ نہیں ہے بلکہ وہ جنوبی شہر بصرہ میں بم دھماکوں میں ملوّث ایک شخص کی بہن ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل سعد معان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''لبنانی حکام نے سجی عبدالحمید الدلیمی نامی جس خاتون کو گرفتار کیا ہے،وہ بم دھماکوں کے الزام میں گرفتار شخص عمرعبدالحمید الدلیمی کی بہن ہے۔اس شخص کو عراق کی ایک عدالت بم دھماکوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنا چکی ہے''۔

ترجمان نے وضاحت کی ہے کہ ابوبکر البغدادی کی دو بیویاں ہیں اور ان میں کسی کا نام سجی الدلیمی نہیں ہے۔ ترجمان نے بتایا ہے کہ داعش کے خلیفہ کی ایک اہلیہ کا نام فوزی محمد الدلیمی اور دوسری کا نام اسراء رجب القیسی ہے۔

واضح رہے کہ اس سال کے آغاز میں اس خاتون سجی الدلیمی کی تصاویر آن لائن منظرعام پر آئی تھیں اور ان کے حوالے سے یہ کہا گیا تھا کہ وہ ابوبکر بغدادی کی اہلیہ ہے۔تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ لبنانی حکام نے جس الدلیمی نامی خاتون کو گرفتار کیا ہے،آیا وہی بغدادی کی اہلیہ ہے یا وہ مذکورہ کوئی اور خاتون ہے اور اس کا داعش کے خلیفہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

العربیہ نیوز چینل نے منگل کو یہ اطلاع دی تھی عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی کے خودساختہ خلیفہ ابوبکرالبغدادی کی اہلیہ اور بیٹے کو مبینہ طور پر شام کی سرحد کے نزدیک واقع لبنانی قصبے سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ لبنان کے ایک سکیورٹی ذریعے کا کہنا تھا کہ اس خاتون کو اس کے بیٹے سمیت دس روز قبل لبنان کے سرحدی قصبے عرسال سے حراست میں لیا گیا تھا۔

لبنانی روزنامے السفیر نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ فوج نے اس خاتون کو غیرملکی انٹیلی جنس اداروں کی مدد سے حراست میں لیا تھا۔تاہم لبنان کے ایک سکیورٹی عہدے دار کا کہنا ہے کہ بغدادی کی اہلیہ کو ان کی ایک بیٹی سمیت گرفتار کیا گیا ہے اور اس بچی کا خلیفہ بغدادی کی اولاد ہونے کی تصدیق کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا ہے۔ داعش نے اپنی ویب سائٹس پر ابھی تک اس گرفتاری کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔