.

لیبیا: اقوام متحدہ مذاکراتی عمل کی وسعت کے لیے کوشاں

مذاکرات باہمی عزت کے جذبے سے کرانا چاہتے ہیں: برناڈ ینو لیون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ لیبیا میں پھیلتی ہوئی لڑائی کے خاتمے اور سیاسی بحران کے حل کے لیے مذاکراتی عمل کا دائرہ وسیع کرے گا۔ یہ بات لیبیا کے لیے اس کے خصوصی نمائندے نے بتائی ہے۔

لیبیا جو 2011 سے مسلسل بد امنی اور عسکری گروپوں کی باہمی لڑائیوں کی زد میں ہے۔ اس وقت میں دو متحارب حکومتوں اور دو مقابل پارلیمانوں کے ساتھ موجود ہے۔۔

عالمی برادری کو خوف ہے خانہ جنگی کی یہ سطح آئندہ دنوں زیادہ پھیل سکتی ہے۔ کیونکہ معمر قذافی کی ہلاکت اور اس کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے لیبیا مسلسل اسی بد امنی کا شکار ہے۔

اقوام متحدہ نے امن کوشش کے طور پر ماہ ستمبر میں مذاکرات کا پہلا راونڈ شروع کیا تھا۔ تاکہ الگ الگ پارلیمان کے حامیوں کو اکٹھا کیا جا سکے۔

اس سلسلے کے مذاکرات کا دوسرا دور آج شروع ہونا تھا، لیکن اب اس ملتوی کیا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ پہلے مذاکراتی دور سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا تھا۔

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برنا ڈینو لیون نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کو اس وقت تک ملتوی رکھنا چاہیں گے جب تک مزید تفصیلات پر اگلے ہفتے تک کام مکمل نہیں ہو جاتا۔ مذاکراتی عمل میں طرابلس میں قائم پارلیمنٹ کے ارکان بھی شریک ہوں گے۔

لیون نے اس حوالے سے کہا '' یہ مذاکرات باہمی عزت کے جذبے کے تحت ہوں گے، ہمارے درمیان یہ اتفاق ہوا ہے کہ طرابلس میں قائم اس اسمبلی کے ارکان خود کو نیشنل کانگریس کا رکن سمجھتے ہوئے شریک ہوں گے۔ ''

تاہم مبصرین کا کہنا ہے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کو لیبیا کے مشرقی شہر میں قائم حکومت سے یہ منوانا مشکل ہو سکتا ہے کہ دونوں متحارب پارلیمنٹس باہم ملیں۔

اس حوالے سے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے اس سوال کو نظرانداز کر دیا کہ '' آیا اقوام متحدہ نے اس پارلیمان کے بارے میں اپنے اس موقف کو خیر باد کہہ دیا ہے جو واحد نمائندہ پارلیمنٹ ہے اور جسے عالمی طاقتیں تسلیم کرتی ہیں۔؟

اس سوال پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کا صرف یہ کہنا تھا کہ '' سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد صورت حال تبدیل ہو گئی ہے۔'' اگرچہ اس فیصلے کے ناقدین کا موقف ہے کہ جج طرابلس میں ہوتے ہوئےکم ہی آزاد ہو سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے مزید کہا '' ہم سب کا اتفاق ہے کہ حالیہ عدالتی فیصلہ ملک میں تبدیلی چاپتا ہے۔ '' لیون کی ساری گفتگو کا مرکز لیبیا میں افہام و تفہیم کے ساتھ ایک متحدہ حکومت کی تشکیل کے لیے کوششیں کرنا تھا۔''