.

اخوان المسلمون: مرشد عام سمیت 339 کو فوجی عدالت کا سامنا

سڑکیں بلاک کرنے اور تشدد پر اکسانے کے الزامات عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں کالعدم قرار دی گئی سب سے پرانی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے چار اہم رہنماوں سمیت کم از کم 339 کارکنوں اور حامیوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمے چلائے جائیں گے۔ مصر کے پراسکیوٹرز نے اس سلسلے میں مقدمات متعلقہ فوجی عدالتوں کو بھجوا دیے ہیں۔

ایک عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نہر سویزسے ملحق شہر اسماعیلیہ میں پبلک پراسکیوٹر نے برطرف کیے گئے صدر محمد مرسی کے 299 حامیوں پر اسلحے سمیت مختلف الزامات کے تحت مقدمات فوجی عدالت کے سپرد کر دیے ہیں۔

معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں پر الزام ہے کہ ماہ اگست 2013 میں قاہرہ میں اخوان المسلمون کے دھرنے میں شریک کارکنوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاون کے بعد انہوں نے اسلحے کا استعمال کیا تھا۔

واضح رہے اس سکیورٹی کریک ڈاون کے دوران اخوان کے سینکڑوں حامی مارے گئے تھے۔ اسماعیلیہ کے پراسیکیوٹر نے اخوان کے جن اعلیٰ رہنماوں کے خلاف مقدمات فوجی عدالت میں چلانے کی سفارش کی ہے، ان میں اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع، محمد البلتاجی عیصام الاریان اور صفوت حجازی شامل ہیں۔

پراسیکیوٹر نے اس پہلے یہ بھی بتایا تھا کہ چالیس ملزمان کو مختلف واقعات میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ان پر بھی الزام ہے کہ انہوں نے قانون شکنی کی اور لوگوں کو تشدد پر اکسایا ہے۔ نیز سڑکیں بلاک کرنے اور اخوان المسلمون کے ساتھ وابستگی کا بھی الزام ہے۔ اخوان المسلمون پر پچھلے سال دسمبر میں مصر کی عبوری حکومت نے پابندی لگا دی تھی۔

اسی اثنا میں مصر کے اعلیٰ ترین پراسیکیوٹر نے اخوان المسلمون کے 139 حامیوں کے خلاف جنوبی صوبے مینا میں مقدمہ فوجی عدالت کو بھجوا دیا ہے۔ ان افراد پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے محمد مرسی کی برطرف کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس تھانے پر حملہ کیا تھا۔

مصر میں عام شہریوں کو فوجی عدالتوں کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی منظوری ماہ اکتوپر میں دی گئی تھی۔ کسی فوجی عدالت میں پیش کیے جانے والی یہ پہلی بڑی تعداد ہے۔

مصر میں عام شہریوں کو فوجی عدالتوں میں پیش کرنے کے فیصلے کو سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی سطح پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ تاہم سابق فوجی سربراہ اور موجودہ صدر عبدالفتاح فوجی عدالتوں مین سویلینز کو لانے کے حق میں ہیں۔