کردوں نے کوبانی کا 60 فیصد علاقہ آزاد کرا لیا
داعش کے جنگجو زیر زمین سرنگوں میں محصور
کرد فوج نے ترکی سے متصل شام کے علاقے کوبانی میں دولت اسلامی’داعش‘ کے دہشت گردوں کو شکست دینے کے بعد شہر کے ساٹھ فیصد حصے پر اپنا کنٹرول مضبوط کرلیا ہے جس کے بعد داعش کے جنگجو زیر زمین پناہ گاہوں میں روپوش ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
خیال رہے کہ داعش نے 16 ستمبر کو ترکی سے متصل سرحدی شہر کوبانی پر ایک بڑا حملہ کر کے شہر کے بیشتر حصے پر قبضہ کرلیا تھا۔ گذشتہ ماہ نومبر کے آغاز میں کرد فوج اور عالمی اتحادی فوج نے داعش کے خلاف زمینی اور فضائی آپریشن شروع کیا۔
عراق کے صوبہ کردستان کی البیشمرکہ فوج کے دستے ترکی کے راستے کوبانی میں داخل کیے گئے تھے جنہوں نے مقامی جنگجوئوں کی مدد سے داعش کے خلاف بھرپور جنگ شروع کی۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے فضائی حملوں کے نتیجے میں داعش کی مزید پیش قدمی رک گئی تھی۔
شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے آبزویٹری برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے ’’اے ایف پی‘‘ کو بتایا کہ کرد جنگجوئوں نے دولت اسلامی کو شکست دینے کے بعد کوبانی کے ساٹھ فیصد علاقے پر اپنا کنٹرول قائم کرلیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دولت اسلامی کے جنگجوئوں نے کئی علاقے پہلے ہی خالی کر دیے تھے لیکن ان میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے باعث کرد فوج آگے بڑھنے سے گریز کر رہی تھی۔ اب بارودی سرنگوں کا صفایا کر دیا گیا ہے اور کرد فوج نے علاقے کلیئر کر دیے ہیں۔
کوبانی کے ایک مقامی صحافی مصطفی عبدی نے بتایا کہ کردوں کی تازہ فاتحانہ پیش قدمی ایک ہفتہ قبل شروع ہوئی تھی۔ کرد فوج نے بتدریج کوبانی کے مختلف علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کیا ہے۔
خیال رہے کہ داعشی جنگجو کوبانی کے مقامی کرد جنگجو گروپ’’تحفظ عوام‘‘ کے گڑھ اور شہر کی شمالی اور جنوبی کالونیوں کو خالی کرنے کےبعد مشرقی سمت میں ثقافتی مرکز اور اسکولوں سے بھی نکل گئی تھی اور ان مقامات پر کرد فوج نے اپنا کنٹرول مضبوط بنا لیا تھا۔
مقامی صحافی کے مطابق داعشی جنگجوئوں اور کرد فوج کے درمیان دو روز قبل بھی شہر کے وسط میں گھمسان کی جھڑپیں ہوئی تھیں تاہم کرد فوج کے داعش کے جنگجوئوں کو وہاں سے نکال باہر کیا تھا۔
کرد ایف ایم ریڈیو کے مطابق کردستان فوج کی داعش کے خلاف کامیابی امریکا اور اس اتحادی فوج کے فضائی حملوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی ہے۔ ریڈیو رپورٹ کے مطابق گذشتہ تین روز میں اتحادی فوج نے کوبانی میں داعش کے ٹھکانوں پر 17 فضائی حملے کیے جن میں سے 13 حملے 48 گھنٹوں میں کیے گئے تھے۔ ان حملوں میں داعش کے کئی ٹھکانے تباہ ہوگئے اور تنظیم کے جنگجوئوں کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق داعشی جنگجو کوبانی میں شکست خوردہ ہونے کے بعد اب زمین دوز بنکروں میں پناہ حاصل کر رہے ہیں۔ براہ راست جنگ میں ناکامی کےبعد داعش نے گوریلا کارروائیوں اور کار بم دھماکوں کی حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیاہے۔
-
شام:کردوں سے لڑائی میں داعش کے 30 جنگجو ہلاک
امریکی اتحادیوں کی کوبانی ،الرقہ اور دیرالزور میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری
مشرق وسطی -
کوبانی کے دفاع کے لیے تازہ دم کرد فوجی دستوں کی آمد
عراق کے نیم خود مختار صوبہ کردستان کی البیشمرکہ فوج کا 150 فوجیوں پر مشتمل تازہ دم ...
مشرق وسطی -
کوبانی: حملوں ،جھڑپوں میں داعش کے 50 جنگجو ہلاک
شام کے سرحدی شہر کوبانی (عین العرب) میں گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران کرد جنگجوؤں کے ...
مشرق وسطی