مصر: ڈاکٹر مرسی کے خلاف 21 اپریل کو مقدمے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کی ایک فوجداری عدالت نے برطرف صدر ڈاکٹر محمدمرسی سمیت پندرہ مدعا علیہان کے خلاف دس مظاہرین کی ہلاکتوں کے مقدمے کا فیصلہ سنانے کے لیے اکیس اپریل کی تاریخ مقرر کی ہے۔

ڈاکٹر مرسی کے خلاف کسی مقدمے کا یہ پہلا فیصلہ ہو گا۔ ان سمیت اخوان المسلمون کے لیڈروں کے خلاف مظاہرین کی ہلاکتوں ،تشدد کو ہوا دینے ،جیل سے فرار اور جاسوسی کے الزامات کے تحت مختلف مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔

عدالتی ذرائع کے مطابق ڈاکٹر محمدمرسی پر قاہرہ میں واقع اتحادیہ صدارتی محل کے باہر اخوان المسلمون کے حامیوں کے ساتھ جھڑپوں میں مرسی مخالف دس مظاہرین کی ہلاکتوں کے الزام میں فوجداری عدالت میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔اسی مقدمے کا عدالت اکیس اپریل کو فیصلہ سنائے گی۔

ڈاکٹر محمد مرسی اس وقت مصر کے منتخب صدر کی حیثیت سے برسر اقتدار تھے۔ انھوں نے ایک فرمان کے ذریعے بہت سے اختیارات صدر کو سونپ دیے تھے۔ان کے اس اقدام کے خلاف مصریوں نے صدارتی محل کے باہر مظاہرہ کیا تھا اور اس دوران ان کی اخوان کے حامیوں کے ساتھ مسلح جھڑپیں ہوئی تھیں۔

مظاہرین کی ہلاکتوں کے الزام میں ڈاکٹر مرسی کے علاوہ اخوان المسلمون کے مرکزی قائدین محمد البلتاجی اور اعصام العریان کو بھی اس مقدمے میں ماخوذ کیا گیا ہے۔اس مقدمے کے پندرہ مدعا علیہان میں سے آٹھ اس وقت زیر حراست ہیں اور باقی مفرور ہیں۔

ڈاکٹر مرسی پر جاسوسی کے الزام میں الگ سے ایک اور مقدمہ چلایا جارہا ہے۔مصر کے پراسیکیوٹرز نے ان پر پاسداران انقلاب ایران کو ریاست کے خفیہ راز افشاء کرنے کا الزام عاید کیا تھا جن کا مقصد مصر کو عدم استحکام سے دوچار کرنا تھا۔پراسیکیوٹرز نے معزول صدر پر یہ سنگین الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے اخوان کے پینتیس دوسرے لیڈروں، فلسطینی جماعت حماس اور ایران کے ساتھ مل کر مصر کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش کی تھی۔

معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی،اخوان کے لیڈروں اور لبرل کارکنان سمیت چوبیس افراد کے خلاف عدلیہ کی توہین سمیت مختلف الزامات کے تحت تین اور مقدمات بھی چلائے جا رہے ہیں۔ان میں اپنے مخالفین کو قتل کرنے کی شہ دینے ،غیر ملکی گروپوں کے ساتھ مل کر سازش کرنے اور جیل توڑنے کے الزامات پر مبنی مقدمات شامل ہیں۔ان تینوں کیسوں میں انھیں موت کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔

اخوان المسلمون اور اس کی اتحادی جماعتوں کے لیڈروں کے خلاف مختلف الزامات کے تحت ٹرائل 3 جولائی 2013ء کو ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے بعد سے جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے۔واضح رہے کہ مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے 3 جولائی کوجمہوری طور پر پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔اس فوجی اقدام کے خلاف احتجاج کرنے والے اخوان المسلمون کے کارکنان اور دیگر جمہوریت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز نے سخت کریک ڈاؤن کیا تھا جس کے دوران ایک ہزار چارسو سے زیادہ افراد ہلاک اور دو ہزار سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں