اسرائیلی حملہ نئے قواعد وضع کرنے کی کوشش:حزب اللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل نے گذشتہ ہفتے شامی علاقے میں لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے معروف ارکان پر حملہ کرکے ''نئے قواعد'' وضع کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہ بات حزب اللہ کے نائب سربراہ شیخ نعیم قاسم نے حملے میں مارے گئے جنگجوؤں کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔شام کے اسرائیل کی سرحد کے نزدیک واقع صوبے القنیطرہ میں گذشتہ ہفتے صہیونی فوج کے میزائل حملے میں حزب اللہ کے مقتول کمانڈر عماد مغنیہ کے بیٹے سمیت متعدد جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔ان کے ساتھ پاسداران انقلاب ایران کے ایک میجر جنرل بھی ہلاک ہوئے تھے۔

شیخ نعیم قاسم نے سوگواروں کی تقریب میں کہا کہ ''یہ صہیونیت کی فوجی مساوات قائم کرنے کی ایک نئی کوشش ہے۔انھوں نے اس طرح کے حملوں کے ذریعے وہ کچھ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے جو وہ جنگ میں حاصل نہیں کرسکے تھے لیکن اسرائیل اب اتنا کمزور ہے کہ وہ نئے اقدامات یا نئے قواعد وضع کرنے کی صلاحیت کا حامل نہیں ہے''۔

انھوں نے وضاحت تو نہیں کی لیکن یہ کہا ہے کہ ان کا گروپ اس حملے کا جواب دے گا۔ان کا کہنا تھا کہ جماعت کے سربراہ سید حسن نصراللہ آنے والے دنوں میں اس حملے پر مؤقف کا اظہار کریں گے۔انھوں نے کہا کہ ''ہم اپنا جہاد جاری رکھیں گے اور ہم وہاں موجود ہوں گے جہاں ہمیں موجود ہونا چاہیے''۔

حزب اللہ پر شام میں اپنے جنگجوؤں پر اسرائیلی فوج کے میزائل حملے کا جواب دینے کے لیے سخت دباؤ ہے اور وہ اس کے ردعمل میں اسرائیلی علاقوں پر راکٹ حملے کرسکتی ہے یا پھر دوسرے ممالک میں اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنا سکتی ہے مگر اس کی جانب سے کسی بھی آپش پر عمل درآمد سے دونوں کے درمیان مکمل جنگ چھڑنے کا بھی خدشہ ہوسکتا ہے۔

درایں اثناء اسرائیلی وزیردفاع موشے یعلون نے آرمی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے شامی علاقے میں اپنی فوج کے حملے کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔البتہ یہ اطلاع دی ہے کہ شمالی علاقے کی جانب مزید کمک روانہ کردی گئی ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ''ایران نے حزب اللہ سے شراکت داری کے ذریعے گولان کی چوٹیوں پر ہمارے ساتھ ایک نیا محاذ کھولنے کی کوشش کی تھی لیکن اس کو ناکام بنا دیا گیا ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں