.

تیونس نے 'تباہ کن' حملوں کا منصوبہ ناکام بنا دیا

شام سے واپس آنے والوں سمیت 32 افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونسی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے شام سے لڑائی کے بعد واپس آنے والے کچھ جنگجوئوں سمیت 32 افراد کو حراست میں لیا ہے جو کہ تیونس میں تباہ کن حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔

ان گرفتاریوں کی خبر کابینہ کے عہدے سنبھالنے کے صرف ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔ نئی کابینہ کو بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جس میں 2011 کے انقلاب کے بعد سامنے آںے والے انتہا پسند گروپ بھی شامل ہیں۔

تیونسی وزارت داخلہ کے ترجمان محمد علی عروئی کا کہنا ہے "انسداد دہشت گردی فورس نے دارالحکومت تونس میں وزارت داخلہ، اہم سیکیورٹی اور شہری عمارات کو تباہ کن حملوں میں نشانہ بنانے کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا "گذشتہ تین دنوں کے دوران ہم نے 32 دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے جو کہ تونس اور دیگر شہروں کو نشانہ بنانے کی تیاری کررہے تھے۔ ان میں سے متعدد جنگجو شام میں جاری جنگ میں حصہ لینے کے بعد واپس لوٹے تھے۔"

محمد علی عروئی کا کہنا تھا کہ تیونسی فوجیوں نے الجزائر کی سرحد کے پاس تیونسی اور الجزائری جنگجوئوں کے ساتھ جھڑپیں کی ہیں جن میں کئی جنگجو مارے گئے ہیں۔ 2011ء میں تیونس میں صدر زین العابدین بن علی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے چلائے جانے والی تحریک کے بعد سے یہ ملک جہاد کے لئے شام جانے والے جنگجوئوں کا گڑھ بن گیا ہے۔

تیونسی وزیر اعظ٘م حبیب الصید نے گذشتہ ہفتے کہا "ہماری اولین ترجیح شدت پسندی کا مقابلہ کرنا، دہشت گردی کے مقابلے کے لئے اپنی سیکیورٹی کی صلاحیتیوں کو مضبوط کرنا اور جمہوری تبدیلی کے عمل کی حفاظت کرنا ہے۔" تیونس کی معیشت کا دار ومدار سیاحت پر ہے جس کی وجہ سے نئی حکومت انتہا پسندی کا سر کچلنے کی سرتوڑ کوششیں کررہی ہے۔

شام میں لڑںے والے تیونسی شہریوں کی تعداد تقریبا 3000 ہے۔ ان میں سے کچھ سو افراد تیونس میں واپس آگئے ہیں اور متعدد افراد کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کیا جارہا ہے۔

ترجمان وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ سپیشل فورسز جنوبی شہر قفصہ میں مراد نامی جنگجو کی سربراہی میں سرگرم دیگر جنگجوئوں کا پیچھا کررہی ہیں۔

امریکا کی طرف سے دہشت گرد قرار دئیے جانے والے گروپ انصار الشریعہ نے تیونس میں 2011ء کے بعد سے اسلامی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔ اس گروپ کی لیبی شاخ نے حالیہ مہینوں میں طرابلس میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔