عراقی فورسز کی ''البغدادی'' پر کنٹرول کے لیے پیش قدمی

شمال مغربی قصبے سے داعشی جنگجو پسپا ہو رہے ہیں:امریکی جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی فوج کے ایک سینیر کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ عراقی فورسز سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے زیر قبضہ قصبے البغدادی کی جانب پیش قدمی کررہی ہیں اور وہ اس قصبے پر جلد دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیں گی۔

عراق اور شام میں داعش کے خلاف امریکا کی قیادت میں عالمی مہم کے سینیر کمانڈر لیفٹیننٹ جیمز ٹیری نے نے سوموار کو کویت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق میں داعش کے جنگجوؤں کو ہزیمت کا سامنا ہے اور وہ اب پسپائی اختیار کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا:''میرا تجزیہ یہ ہے کہ داعش کو روک دیا گیا ہے،انھوں نے دفاعی پوزیشن اختیار کر لی ہے اور انھیں پتا چل گیا ہے کہ وہ اب فتوحات نہیں کرسکتے''۔انھوں نے اسی ماہ کے آغاز میں جنگجوؤں کے البغدادی کے نواحی علاقوں پر قبضے کی خبروں کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ اس علاقے میں ابھی لڑائی جاری ہے اور کسی ایک کا قبضہ نہیں ہوا ہے۔

جنرل ٹیری نے بتایا کہ ''عراقی فوج کی ساتویں ڈویژن صوبہ الانبار کے دارالحکومت رمادی سے پچاسی کلومیٹر شمال مغرب میں واقع البغدادی پر دوبارہ کنٹرول کے لیے قبائلی فورسز کے ساتھ مل کر لڑرہی ہے۔مجھے یقین ہے کہ عراقی اس قصبے پر دوبارہ قبضہ کر لیں گے''۔

انھوں نے کہا کہ داعش کے خلاف البغدادی کے محاذ پر آٹھ سو سے زیادہ فوجی لڑرہے ہیں اور اس کے نزدیک واقع عین الاسد ائیربیس سے امریکا کی قیادت میں اتحادی فورسز بھی انھیں معاونت فراہم کررہی ہیں اور انھوں نے عراقیوں کی مدد کے لیے داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے بھی کیے ہیں۔

الانبار کی صوبائی کونسل کے سربراہ صباح قرحوط نے بتایا ہے کہ عراقی سکیورٹی فورسز نے البغدادی کے پولیس اسٹیشن پر دوبارہ قبضہ کرلیا ہے اور فوجی اب قصبے کے وسط تک پہنچ چکے ہیں۔ان کے بہ قول سوموار کو عراقی فورسز اور داعش کے درمیان شدید لڑائی ہوئی ہے اور اس میں داعش کے بیس جنگجو مارے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ کویت میں واقع کیمپ عارف جان میں امریکا کے نئے وزیردفاع ایش کارٹر نے جنرل ٹیری سمیت اعلیٰ امریکی کمانڈروں اور سفارت کاروں کا اجلاس طلب کیا ہے۔اس میں انھوں نے داعش کے خلاف جنگی حکمت عملی کا جائزہ لیا ہے۔

انھوں نے قریباً تیس امریکی عہدے داروں کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ اس خطے میں ٹیم امریکا ہے اور میں سب کو اکٹھا کرنا چاہتا ہوں''۔اجلاس میں داعش مخالف اتحاد کے لیے صدر براک اوباما کے نمائندے جنرل جان ایلن بھی شریک تھے۔

ایش کارٹر کا کہنا تھا کہ داعش کے جنگجو ایک خطرہ تھے اور وہ عراق اور شام سے باہر بھی اپنے پاؤں پھیلا رہے تھے،ان سے نمٹنے کے لیے سیاسی اور فوجی کوششوں کی ضرورت تھی۔

امریکا میں داعش کے خلاف اوباما انتظامیہ کی حکمت عملی کے حوالے سے تندوتیز بحث جاری ہے اور ری پبلکن پارٹی کے ارکان کانگریس اس جنگی حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔داعش کے دوسرے ملکوں میں پھیلنے کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے اور اس وقت اس کے جنگجو اور ان کے حامی خانہ جنگی کا شکار لیبیا میں اپنے پر پرزے نکال رہے ہیں جس پر مصر اور فرانس وغیرہ اس ملک میں بھی داعش کے خلاف فضائی مہم کو وسعت دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں