عراقی فوج کی تکریت، انبار صلاح الدین شہروں میں پیش قدمی
شیعہ ملیشیا کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکتوں کا خدشہ
عراق کی بری فوج نے عالمی اتحادیوں کے فضائی حملوں کے جلو میں دولت اسلامیہ ’’داعش‘‘ کے زیرقبضہ شمالی شہروں تکریت، الانبار اور صلاح الدین گورنری کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے کئی اہم مقامات کو آزاد کرالیا ہے۔
العربیہ ٹی وی کے برادر نیوز چینل’’الحدث‘‘ نے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ عراقی فوج اور اس کی حامی شیعہ ملیشیا نے مشرقی فلوجہ میں وزارت صنعت کے زیرانتظام ایک کارخانے اور الکرمہ پل پر قبضہ کرتے ہوئے داعشی عسکریت پسندوں کو وہاں سے نکال باہر کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عراقی فوج عالمی اتحادیوں اورغیر سرکاری شیعہ ملیشیا کے تعاون سے الکرمہ شہرکو داعش سے چھڑانے کی تیاری کررہی ہے۔ تاہم عالمی اداروں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ عراقی فوج اور اس کی چھتری تلے لڑنے والی شیعہ ملیشیا کے ہاتھوں سنی آبادی کا قتل عام ہوسکتا ہے۔
عراق کے ایوان صدر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صدر مملکت فواد معصوم نے وزیراعظم سیکرٹریٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوج اور شیعہ ملیشیا کو صرف داعشی جنگجوئوں کے خلاف کارروائی کی اجازت دیں اور عام آبادی کے خلاف کسی قسم کی انتقامی کارروائی سے سختی سے منع کریں۔ خاص طور پر صلاح الدین گورنری کی داعش سے آزادی کے دوران عام شہریوں کے جان ومال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
درایں اثناء امریکا کے نائب صدر جوزف بائیڈن نے اپنے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف عراقی فوج کے آپریشن کے دوران سنی مسلک کے شہریوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عراقی فوج کو آپریشن کے دوران فرقہ وارانہ کارروائیوں میں الجھنے سے سختی سے گریز کرنا چاہیے اور اپنی تمام توجہ صرف داعش کے خلاف مرکوز رکھنی چاہیے۔
عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم اور امریکی نائب صدر کے درمیان ٹیلیفون پر بات چیت ہوئی ہے جس میں شمالی عراق کے شہروں میں داعش کے خلاف عراقی فوج کے زمینی آپریشن پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کے دوران عام شہریوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنانے اور آزاد ہونے والے علاقوں میں قانون کی عمل داری پر زور دیا ہے تاکہ آزاد ہونے والے علاقوں میں کسی قسم کی فرقہ وارانہ کشیدگی جنم نہ لے۔
خیال رہے کہ عراقی فوج مسلح شیعہ ملیشیا کے ہمراہ تکریت، الانبار اور صلاح الدین گورنری کی جانب آپریشن آج چوتھے روز میں بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ فوج کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران پچھلے 48 گھنٹوں کے دوران انہوں نے تکریت، الانبار اور صلاح الدین کی جانب اہم پیش قدمی کی ہے۔ کئی علاقوں میں داعشی جنگجوئوں کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور ان کی سپلائی لائنز کاٹ دی گئی ہیں۔
خبر رساں ایجنسی ’’رائیٹرز‘‘ کے مطابق داعشی جنگجوئوں نے مشرقی تکریت میں ایک آئل ریفائنری کو آگ لگا دی ہے۔
فلوجہ سے اطلاعات ہیں کہ جنگی طیاروں کی بمباری میں داعش کے زیرقبضہ ایک میزائل ڈپو کو تباہ کردیا گیا ہے۔ بمباری میں 35 داعشی شدت پسند ہلاک اور امریکی ساختہ 40 میزائل تباہ کردیے گئے ہیں۔
-
تکریت آپریشن،فرقہ وارانہ کشیدگی نہیں بڑھنی چاہیے:امریکا
امریکا نے خبردار کیا ہے کہ عراق کے شمالی شہر تکریت پر دوبارہ کنٹرول کے لیے سخت گیر ...
بين الاقوامى -
تکریت میں ایرانی جنرل کی نگرانی میں عراقی فوج کا آپریشن
عراق کے شمالی شہر تکریت میں سرکاری فوج اور شیعہ ملیشیا کی جانب سے شدت پسند تنظیم ...
بين الاقوامى -
تکریت میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر عراقی بمباری
شہر کو داعش سے واگذار کرانے کے لیے آپریشن کی تیاری
مشرق وسطی