.

حوثیوں کے بیلسٹک میزائل ''فیصلہ کن طوفان'' کا ہدف

یمن میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی پی آئی اے کی خصوصی پرواز سے کراچی آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں آپریشن ''فیصلہ کن طوفان'' کے فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ یمن میں حوثی ملیشیا کے لیے اب کوئی محفوظ ٹھکانے نہیں رہیں گے۔اتحادی طیاروں نے فوجی مہم کے چوتھے روز حوثیوں کے زیر قبضہ یمنی فوج کے بیلسٹک میزائلوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔

سعودی عرب کے بریگیڈئیر جنرل احمدالعسیری نے اتوار کو دارالحکومت الریاض میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثیوں کو براہ راست ہدف بنایا جارہا ہے اور اتحادی فائیٹر جیٹ برسرزمین طیارہ اور میزائل شکن فضائی دفاعی نظام کو بھی بمباری میں نشانہ بنا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حوثی باغی یمنی فوج سے چھینے گئے آلات اور بیلسٹک میزائلوں کو شہری آبادی میں واقع مکانوں میں منتقل کررہے ہیں۔اس قسم کے میزائل اتحادی طیاروں کے حملوں کا ابتدائی ہدف تھے۔لڑاکا طیارے حوثیوں کی عسکری طاقت کو مجتمع ہونے سے روکنے کے لیے چوبیس گھنٹے دستیاب ہیں۔

انھوں نے اتحاد کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے چوکنا ہے لیکن حوثیوں کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں رہے گی اور یمن کے شمالی علاقوں میں شیعہ ملیشیا کے خلاف فضائی مہم جاری رکھی جائے گی۔

بریگیڈئیر جنرل عسیری نے صحافیوں کو بتایا کہ آج سعودی سرحد کے نزدیک حوثیوں کے ایک فوجی کیمپ پر حملہ کیا گیا ہے۔انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ سعودی سرحد پر کوئی خطرہ درپیش نہیں ہے اور وہ محفوظ ہے۔

پاکستانیوں کی واپسی

درایں اثناء پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز کا ایک خصوصی طیارہ یمن میں پھنسے ہوئے پانچ سو پاکستانیوں کو لے کر اتوار کی شب کراچی کے ہوائی اڈے پر اُتر گیا ہے۔جنرل عسیری نے قبل ازیں اس امر کی تصدیق کی تھی کہ پاکستانیوں کو یمن سے نکال لیا گیا ہے۔

ان پاکستانیوں کو یمن کے دارالحکومت صنعا سے الحدیدہ میں منتقل کیا گیا تھا۔حوثی باغیوں اور یمن کی سکیورٹی فورسز نے الگ الگ ان کی مکمل جامہ تلاشی کے بعد انھیں صنعا سے جانے کی اجازت دی تھی اور سعودی عرب کے محکمہ شہری ہوابازی کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد پی آئی اے خصوصی پرواز انھیں لے کر وطن واپس روانہ ہوگئی تھی۔

وزیراعظم میاں نواز شریف نے ان پاکستانیوں کے یمن سے بہ حفاظت انخلاء کا حکم دیا تھا۔سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یمن میں قریباً ایک ہزار پاکستانی موجود تھے اور پہلے مرحلے میں پانچ سو پاکستانیوں کو واپس لایا گیا ہے۔ان میں زیادہ ترخواتین اور بچے ہیں اور دوسرے مرحلے میں وہاں باقی رہ جانے والے مردوں کو خصوصی پرواز کے ذریعے ملک واپس لایا جائے گا۔اس وقت وہ الحدیدہ میں ایک اسکول میں مقیم ہیں۔