.

شامی فوج اور داعش میں شدید لڑائی ، 34 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے مشرقی شہر دیرالزور میں اسدی فوج اور دولت اسلامیہ (داعش) کے درمیان گذشتہ چوبیس گھنٹے سے جاری شدید لڑائی میں طرفین کے چونتیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق دیرالزور شہر اور اس کے نزدیک واقع ہوائی اڈے میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور داعش کے جنگجوؤں کے درمیان بدھ سے خونریز جھڑپیں جاری ہیں۔ان میں انیس فوجی اور داعش کے پندرہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

داعش کے ساتھ لڑائی میں ائیرپورٹ پر تعینات فضائی دفاع کے شعبے کا سربراہ بھی ہلاک ہوگیا ہے۔داعش کے جنگجوؤں نے جمعرات کو پکڑے گئے چار شامی فوجیوں کے سرقلم کردیے تھے۔انھوں نے ہوائی اڈے کے نزدیک ایک اہم چیک پوائنٹ پر قبضہ کر لیا تھا۔

آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ داعش کے ایک بمبار نے چیک پوائنٹ پر پہلے خود کو دھماکے سے اڑادیا تھا۔اس کے بعد دوسرے جنگجوؤں نے اس پر قبضہ کر لیا ہے۔اب اس کے بعد وہ فوجی ہوائی اڈے کے مزید نزدیک پہنچ گئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ جمعہ کی صبح بھی طرفین کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے اور دونوں ایک دوسرے پر شدید گولہ باری کررہے ہیں۔ایک مقامی کارکن کے مطابق داعش کا پہلے ہی دیرالزور صوبے کے بیشتر علاقے پر کنٹرول برقرار ہے اور صوبائی دارالحکومت کے نصف حصے پر بھی ان کا قبضہ ہے۔اگر وہ اس شہر پر بھی قبضہ کر لیتے ہیں تو وہ ان کے زیر قبضہ آنے والا الرقہ کے بعد دوسرا صوبائی دارالحکومت ہوگا۔داعش نے الرقہ کو اپنا ''دارالخلافہ'' قرار دے رکھا ہے۔