اسرائیل فلسطین مذاکرات، نیتن یاہو کی فرانسیسی تجویز پر تنقید
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فرانس کی جانب سے پیش کئے جانے والے امن پروگرام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی طاقتیں فلسطینیوں کے ساتھ معاہدے کے لئے اسرائیل سے شرائط منوا رہے ہیں۔
فرانسیسی وزیر خارجہ لورینٹ فیبئیس نے مشرق وسطیٰ میں دو روزہ دورے کے دوران اسرائیل پر زور دیا تھا کہ کہ وہ ان کی کوششوں کا غلط مطلب نہ لے اور انہیں مذاکرات میں مزید تعطل کے خطرات سے خبردار کیا۔
لورینٹ فیبئیس کے منصوبے کے مطابق 2014ء میں ناکام ہونے والے فلسطین اسرائیل مذاکرات کو ایک بین الاقوامی سپورٹ گروپ کی مدد سے دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔ اس گروپ میں عرب ریاستیں، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے رکن ممالک شامل ہوں گے۔
نیتن یاہو نے اپنی کابینہ کی میٹنگ میں کہا کہ جو بین الاقوامی منصوبے ہم پر مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ان میں اسرائیل کی سیکیورٹی ضروریات کو مدنظر نہیں رکھا گیا ہے۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا "وہ ہمیں غیر محفوظ سرحدوں کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں اور اس دوران وہ پیدا ہونے والی صورتحال کو نظرانداز کررہے ہیں۔" نیتن یاہو کے اس بیان میں ان کے پرانے موقف کی باز گشت سنائی دی جس کے مطابق مناسب سیکیورٹی اقدامات کے بغیر اسرائیل کی جانب سے خالی کردہ علاقوں پر مسلح گروپ قابض ہوجائینگے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیبئیس کا کہنا تھا کہ اگر امن کی طرف پیش رفت نہ ہوئی تو یہ تنازعہ مزید شدت اختیار کرجائے گا۔
فرانسیسی وزیر خارجہ نے فلسطینی ہم منصب ریاض المالکی کے ہمراہ بات کرتے ہوئے کہا کہ "میرا مقصد ہے کہ میں بہت سارے آئیڈیاز پیش کروں اور میں نے ابھی ایسا نہیں کیا ہے اس لئے ابھی کوئی فیصلہ کرنا جلد بازی ہوگی۔"
فرانس، عرب ریاستوں کے ساتھ مل کر ایک ممکنہ سیکیورٹی کونسل قرارداد کو منظور کروانے کی کوشش کررہا ہے جس کے نتیجے میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کی حدود اور ان کو مکمل کرنے کے دورانئیے کا تعین ہوجائے گا۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ "فریقین کے درمیان معاہدے کے قیام کا واحد راستہ مذاکرات کے ذریعے سے ہے اور ہم کسی بھی بین الاقوامی طاقت کی جانب سے ہم پر شرائط مسلط نہیں کی جائینگی۔"
مگر فیبئیس نے جواب دیا کہ " ڈکٹاٹ [ہدایات] کا لفظ نہ ہی فرانسیسی زبان کا حصہ ہے اور نہ ہی اس کا استعمال فرانس کی تجاویز میں کیا جاتا ہے۔"
اس سے پہلے ماہ دسمبر میں امریکا نے فلسطین کی حمایت والی ایک قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا جس میں اسرائیل سے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس سے باہر نکلنے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور 2017 تک فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ریاض المالکی نے فرانسیسی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کو بڑی طاقتوں سے براہ راست عزم چاہئیے ہے۔
-
اوباما، یاہو کے بارے منافقت کر رہے ہیں: اسرائیلی عہدیدار
اسرائیل کی حکمران جماعت" لیکوڈ" کے ایک سرکردہ عہدیدار نے پارٹی کے قائد ...
بين الاقوامى -
فلسطینی مائیں ذبح کے قابل ہیں: اسرائیلی وزیر انصاف
نتین یاہو کی کابینہ میں عراقی نژاد یہودیہ وزیر انصاف بن گئیں
ایڈیٹر کی پسند -
انٹرنیٹ صارف کا مذاق، نیتن یاہو کی پارٹی برہم
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی سیاسی جماعت 'لیکود' نے یکم اپریل کو فیس بک پر ...
بين الاقوامى