شامی فوج باغیوں کے زیر قبضہ الزبدانی میں داخل
شام کی سرکاری فوج لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں کی مدد سے وادی قلمون میں واقع قصبے الزبدانی میں اتوار کو داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی ہے۔
حزب اللہ کے زیر انتظام چلنے والے المنار ٹیلی ویژن اسٹیشن نے شامیصدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے باغیوں کے زیر قبضہ الزبدانی میں داخل ہونے کی اطلاع دی ہے اور برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بھی اسدی فوج کی اس پیش قدمی کی تصدیق کی ہے۔ المنار ٹی وی نے حزب اللہ کے جنگجوؤں اور شامی فوجیوں کی الزبدانی میں داخل ہونے کی فوٹیج بھی نشر کی ہے۔
شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ایک بریکنگ نیوز الرٹ میں بتایا ہے کہ ''بہادر مسلح افواج نے لبنانی مزاحمت کے تعاون سے الزبدانی کے مغربی علاقے الجمعیت اور مشرقی علاقے السلطانہ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے''۔
سرکاری ٹی وی نے مزید کہا ہے کہ الزبدانی میں کارروائی جاری ہے اور اس میں دسیوں دہشت گرد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔آبزرویٹری نے اس اطلاع کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ شامی فوج کے ہیلی کاپٹروں نے اتوار کی صبح کے بعد سے الزبدانی کے مختلف علاقوں میں بارہ بیرل بم برسائے ہیں۔
اس قصبے پر قبضے کے لیے گذشتہ چوبیس گھنٹے سے جاری لڑائی کے دوران چودہ سرکاری فوجی اور حزب اللہ کے جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ ان سے لڑتے ہوئے گیارہ باغی مارے گئے ہیں۔
الزبدانی شامی دارالحکومت دمشق سے قریباً بیس کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔اس پر باغی جنگجوؤں نے سنہ 2012ء کے اوائل میں قبضہ کر لیا تھا۔لبنان کی سرحد کے ساتھ وادی قلمون میں واقع یہی قصبہ باغی گروپوں کا سب سے بڑا ٹھکانا تھا۔
سنہ 2013ء کے آخر میں شامی فوج اور حزب اللہ کے جنگجوؤں نے اس علاقے کو باغیوں سے بازیاب کرانے کے لیے ایک بڑی مہم شروع کی تھی۔انھیں اپریل 2014ء میں عیسائیوں کے تاریخی قصبے معلولہ پر قبضے کی صورت میں پہلی کامیابی ملی تھی۔
اس کے بعد باغیوں کا صرف الزبدانی پر ہی قبضہ برقرار رہ گیا تھا اور شامی فوج نے گذشتہ ایک سال سے اس کا محاصرہ کررکھا تھا۔شام کے سرکاری میڈیا نے ہفتے کے روز الزبدانی پر دوبارہ کنٹرول کے لیے اسدی فوج کی کارروائی کے آغاز کی اطلاع دی تھی۔واضح رہے کہ وادی قلمون کے علاقے میں حزب اللہ کے جنگجو سنہ 2011ء سے باغی گروپوں کے خلاف شامی فوج کے شانہ بشانہ لڑرہے ہیں۔