انبارکی آزادی کے لیے جمع عراقی شیوخ باہم دست وگریباں!
ایک دوسرے پر دشمن کا ایجنٹ ہونے کا الزام
عراق کے صوبہ انبار کوشدت پسندوں سے آزاد کرانے کے لیے قبائلی عمائدین اور سیاسی رہ نمائوں کی بغداد میں منعقدہ کانفرنس اپنے اختتام پر بد نظمی شکار ہوگئی۔ شرکاء ایک سے سے الجھ پڑے اورایک دوسرے پر دشمن کا ایجنٹ ہونے کا بھی الزام عاید کیا۔ بات تلخ کلامی سے آگے بڑھتے ہوئے ہاتھا پائی تک جا پہنچی اور شرکاء نے ایک دوسرے پر کرسیاں اچھال دیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 'آزادی انبار کانفرنس' بدھ کو بغداد کے گرین ایریا کے الرشید ہوٹل میں منعقد ہوئی جس میں صوبہ انبار کی قبائلی اور سیاسی قیادت نے شرکت کی۔ کانفرنس کا اہتمام الانبار کے گورنر کی دعوت پر کیا گیا تھا جس میں عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر کو بھی مدعو کیا گیا۔ کانفرنس میں بعض 'ناپسندیدہ' افراد کی شرکت کی وجہ سے شرکاء ایک دوسرے پر برس پڑے۔ تلخ کلامی سے بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی اور انبار کی آزادی کی گھتی سلجھانے والے ایک دوسرے پر کرسیاں پھینکتے دکھائی دیے۔ یہ ہنگامہ اس وقت برپا ہوا جب کانفرنس میں کچھ ایسے لوگ بھی آ پہنچے جن پر انبار میں کشیدگی کو ہوا دینے اور ہزاروں خاندانوں کی نقل مکانی کا ذمہ دار قراردیا گیا تھا۔
کانفرنس میں شریک ایک شخص نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ کانفرنس میں بد نظمی اس وقت پیدا ہوئی جب سابق وزیراعظم نوری المالکی کے ایک مقرب نے کانفرنس میں تقریر شروع کی۔ اس نے بعض قبائلی عمائدین کی کانفرنس میں شرکت پر کڑی نکتہ چینی کی اور کہا کہ بعض قبائلی رہ نما کانفرنس کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ اس پر دوسری طرف سے بھی لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے سابق وزیراعظم کے مقرب کو اس کی 'اوقات' یا دلانے کی کوشش کی۔
البوفہد قبیلے کے سردار الشیخ مزھر ملا خضرنے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو ٹیلیفون پربتایا کہ شرکاء میں تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کانفرنس کے دوران نہیں بلکہ اختتام پر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے تمام شرکاء نے الانبار کی دولت اسلامی "داعش" کے دہشت گردوں سے آزادی اور وہاں سے ھجرت کرنے والے شہریوں سے واپسی کے لیے ہرممکن قدم اٹھانے پر اتفاق کیا گیا۔
نیوز ویب پورٹل "الانبار نیوز" نے البوعثیہ قبیلے کے رہ نما عبدالمجید نائف ابو زعیان کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ کانفرنس کے اختتام پرمیں نے کچھ لوگوں کو ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے سنا جو ایک دوسرے کودشمن کا ایجنٹ کہہ کر پکار رہے تھے۔ آپس میں الجھنے والے لوگ ایک دوسرے پر الانبار پر داعش کےقبضے کے دوران غفلت برتنے کا بھی الزام عاید کررہے تھے۔ ان لوگوں نے الانبار کے تمام شیوخ پر داعش کے ساتھ ساز باز کا الزام بھی عاید کیا۔ اس کے جواب میں دوسرے عمائدین نے کہا کہ انبار کے قبائل نے اپنے بچے قربان کیے ہیں۔ ہم اب بھی لڑنے کے لیے تیار ہیں، دشمن کے ایجنٹ وہ ہیں جو سابق وزیراعظم نوری المالکی کے دور میں لا پرواہی اور بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے الانبار کو داعش کے حوالے کرتے ہوئے فرار ہوگئے تھے۔
الانبار کے ترجمان حکمت سلیمان نے بتایا کہ وسطی بغداد کے الرشید ہوٹل میں ہونے والی کانفرنس میں دو افراد داخل ہوئے۔ ان کی آمد پرشرکاء میں سخت برہمی دیکھی گئی۔ ان دونوں نے کانفرنس میں ایسی گفتگو کی جس کے نتیجے میں شرکاء کو اور غصہ آیا تاہم مجموعی طور پرکانفرنس کامیاب رہی ہے۔
-
عراقی فورسز کی انبار میں داعش کے خلاف پیش قدمی، علاوی کا انتباہ
جھڑپوں میں 124 داعشی جنگجو ہلاک
مشرق وسطی -
عراقی فوج کی تکریت، انبار صلاح الدین شہروں میں پیش قدمی
شیعہ ملیشیا کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکتوں کا خدشہ
مشرق وسطی -
داعش کا اہم رہنما عراقی صوبہ انبار میں ہلاک
اتحادیوں کی کارروائی میں 25 عسکریت پسندوں کی بھی ہلاکت
مشرق وسطی