.

بیروت میں مظاہرے،لبنانی وزیراعظم کی مستعفی ہونے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے وزیراعظم نے دارالحکومت بیروت میں کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے مسئلے پر جاری مظاہروں کے بعد مستعفی ہونے کی دھمکی دی ہے۔انھوں نے اپنی قومی اتحاد کی حکومت میں شامل حریف جماعتوں کو خبردار کیا ہے کہ ریاستی ڈھانچے کا دھڑن تختہ ہوسکتا ہے۔

بیروت میں اتوار کو دوسرے روز بھی وزیراعظم تمام سلام کی کابینہ کے خلاف شہریوں نے مظاہرے جاری رکھے ہیں۔ہفتے کی رات سکیورٹی فورسز نے بیروت میں ہزاروں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے تھے جس کے نتیجے میں پینتیس افراد زخمی ہوگئے تھے۔

تمام سلام نے ایک نشری تقریر میں خبردار کیا ہے کہ ''اگر معاملات اسی طرح جاری رہے تو ہم ریاست کی ناکامی کی طرف جارہے ہیں اور میں اس ناکامی کا حصہ نہیں بنوں گا۔تمام عہدے داروں اور سیاسی قوتوں کو اپنے اپنے حصے کی ذمے داری قبول کرنا ہوگی''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہفتے کے روز مظاہرین کے خلاف طاقت کا بے مہابا استعمال کیا گیا ہے اور جو بھی اس کے ذمے دار ہیں،ان کا مواخذہ کیا جائے گا''۔سیکڑوں مظاہرین نے آج بیروت کے وسط میں حکومت کے ہیڈ کوارٹرز کے نزدیک جمع ہو کر مظاہرہ کیا ہے اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی ہے۔

مظاہرین لبنانی دارالحکومت اور اس کے نواح میں کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کا کوئی معقول بندوبست نہ ہونے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔اگر تمام سلام حکومت ختم ہوتی ہے تو انھیں ہی نگران وزیراعظم مقرر کیا جائے گا لیکن ان کے مستعفی ہونے کی صورت میں ایک آئینی بحران پیدا ہوسکتا ہے کیونکہ لبنان میں وزیراعظم کو صدر نامزد کرتا ہے اور صدر کا عہدہ گذشتہ سال سے خالی چلا آرہا ہے۔

وزیراعظم تمام سلام نے کہا ہے کہ اگر کابینہ جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں کچرا اکٹھا کرنے والی کمپنی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کرسکی تو پھر حکومت کی بھی کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔

انھوں نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ قرضوں کا شکار حکومت کے پاس آیندہ ماہ ملازمین کی تن خواہوں کے لیے بھی رقم نہیں ہوگی۔ایک حکومتی ذریعے کے مطابق اس وقت لبنان کا سرکاری قرضہ مجموعی قومی پیداوار کا قریبا143 فی صد ہے اورملک سیاسی بحران کے ساتھ مالی بحران سے بھی دوچار ہے۔