لبنانی کابینہ کچرا ٹھکانے لگانے کے مسئلے پر فیصلے میں ناکام
لبنان کی کابینہ منگل کے روز اپنے ہنگامی اجلاس میں دارالحکومت بیروت میں کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے مسئلے کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔
البتہ کابینہ کے اجلاس میں ایک سمجھوتا طے پاگیا ہے جس کے تحت بیروت شہر سے کوڑا کرکٹ اور کچرے کے ڈھیروں کو ٹھکانے لگانے کے لیے جاری کردہ ٹینڈرز کو منسوخ کردیا گیا ہے۔
بیروت سے العربیہ نیوز چینل کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ اور اس کی اتحادی جماعتوں فری پیٹریاٹک موومنٹ اور آرمینیائی تشنج پارٹی کے چھے وزراء نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے اور انھوں نے اہم مسئلے پر بحث ومباحثے میں کوئی حصہ نہیں لیا ہے۔وزیرخارجہ جبران باسل نےً بھی اجلاس میں شرکت نہیں کی ہے۔
لبنانی دارالحکومت سے تعلق رکھنے والے کارکنان نے اختتام ہفتہ اور سوموار کو کچرے کے ڈھیروں کوٹھکانے لگانے کے لیے کوئی معقول بندوبست نہ ہونے پر بڑی ریلیاں نکالی تھیں اور انھوں نے حکومت کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔
لبنانی فوج نے اتوار کو بیروت کے دو مرکزی چوراہوں کو مظاہرین سے خالی کرا لیا تھا۔ اس دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کم سے کم بیس افراد زخمی ہوگئے تھے۔
اقوام متحدہ کی خصوصی رابطہ کار برائے لبنان سگرید کاگ نے سوموار کو ایک بیان میں ان احتجاجی مظاہروں کے بعد ملک کے تمام فریقوں سے زیادہ سے زیادہ ضبط وتحمل سے کام لینے کی اپیل کی تھی۔انھوں نے لبنانی کابینہ پر زوردیا کہ وہ جتنا جلد ممکن ہوسکے،اس مسئلے کو حل کرے۔انھوں نے کابینہ پر جلد اور موثر فیصلہ سازی کی ضرورت پر زوردیا ہے۔
بیروت میں کچرے کو ٹھکانے لگانے کا کوئی معقول بندوبست نہ ہونے کے خلاف ہفتے کی رات مظاہرے شروع ہوئے تھے۔لبنان کی متحارب سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کارکنان نے ازخود اس احتجاجی تحریک کو منظم کیا ہے اور اس کے نتیجے میں وزیراعظم تمام سلام کی قومی اتحاد کی حکومت کے لیے خطرات پیدا ہوچکے ہیں۔
ان کی اس احتجاجی تحریک کے بعد وزیراعظم تمام سلام نے اتوار کو ایک نشری تقریر میں مستعفی ہونے کی دھمکی دی تھی۔انھوں نے کہا تھا کہ مظاہرین پر تشدد کے ذمے داروں کا مواخذہ کیا جائے گا۔انھوں نے کہا تھا کہ ہرکسی کو اپنے حصے کی ذمے داری قبول کرنی چاہیے۔