.

شامیوں کو "غلام" کہنے پر حزب اللہ کی معذرت!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#لبنان کی #شیعہ ملیشیا #حزب_اللہ کے ایک ترجمان اخبار نے شامی پناہ گزینون اور پوری شامی عوام کو "غلام" اور "دہشت گرد" قرار دینے کے ایک متنازع مضمون کی اشاعت پر معافی مانگ لی ہے، جب کہ حزب اللہ کے حامی بعض ذرائع ابلاغ بدستور شامی پناہ گزینوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ان کے لیے "غلام" جیسے نازیبا الفاظ استعمال کررہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں لبنان سے شائع ہونے والے حزب اللہ کے ترجمان عربی روزنامہ "الاخبار" میں #بشار_الاسد، #حسن_نصراللہ اور حزب اللہ کے مقرب ایک صحافی ناھض حتر کا مضمون شائع ہوا تھا جس میں موصوف نے شامی پناہ گزینوں کے لیے بارے میں نہایت نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے انہیں "غلام" اور "دہشت گرد" جیسے الفاظ سے موسوم کیا تھا۔

"الاخبار" نے بھی فاضل مضمون نگار کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مضمون میں اختیار کیا گیا لب ولہجہ نا مناسب اور انتہائی تلخ تھا اور شامی پناہ گزینوں کے بارے میں استعمال کیے گئے الفاظ "املاء کی فاش غلطی" تھی جس پر اخبار کی انتظامیہ پوری شامی قوم سے معذرت خواہ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اخبار کی جانب سے "شامی قوم کی مبینہ توہین" پرمبنی متنازع مضمون کی اشاعت پر معذرت تو کی ہے مگر #شام میں رائے عامہ اس معذرت کو قبول کرنے کو تیار نہیں کیونکہ ناھض حتر جیسے حزب اللہ اور بشارالاسد کے ٹائوٹ ماضی میں بھی اپنی زبان وقلم سے شامی قوم کےخلاف زہر اگلتے رہے ہیں۔ لبنانی اخبار کی معذرت پر شامی شہریوں کا رد عمل واضح ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ معذرت کی بات آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ ناھض حتر کئی بار حزب اللہ اور صدر بشار الاسد کی حمایت کے ساتھ ساتھ شامی تحریک انقلاب کو سب وشتم کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ انہوں نے صدر بشارالاسد کی قصیدہ گوئی میں اس حد تک مبالغہ آمیزی سے کام لیا تھا کہ ایک مضمون میں صدر اسد کو "پوری مخلوق میں سب سے خوش نصیب" قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ "الاخبار" میں شائع ہونے والے "ناھض حتر" کے مضمون کے بعد سامنے آنے والی تنقید اور رد عمل کو دیکھتے ہوئے اخبار کی انتظامیہ نے ویب سائٹ سے مضمون ہٹا دیا تھا اور ایک متنازع مضمون کی اشاعت پر معذرت کی تھی۔ اردن سے تعلق رکھنے والے اسد نواز مضمون نگارنے لاکھوں شامی پناہ گزینوں کو "داعش" کے مسلح جنگجو اور دہشت گرد قرار دیا تھا اور ان کی یورپ کی طرف نقل مکانی کی مذمت کرتے ہوئے ان کی مشکلات پر مبنی تصاویر اور ویڈیو کا بھی مذاق اڑایا۔