الرقہ: روسی بمباری کے نتیجے میں 27 شہریوں سمیت 42 ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام پر نظر رکھنے والا مانیٹرنگ گروپ کا کہنا ہے کہ روسی جنگی جہازوں نے شام میں انتہاپسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق وشام 'داعش' کے گڑھ الرقہ پر فضائی کارروائی کی ہے جس کے نتیجے میں 27 شہریوں سمیت 42 افراد ہلاک ہوگئے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے داعش کے گڑھ پر کئے جانے والے حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں میں داعش کے جنگجوئوں کی تعداد صرف 15 ہے۔

ایک اور مانیٹرنگ گروپ شامی نیٹ ورک برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ الرقہ میں اس حالیہ روسی حملے کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کے نتیجے میں روس کی جانب سے بشار الاسد کی افواج کی مدد کے لئے شام میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے کی جانے والی فضائی کارروائیوں میں 254 شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ حملہ روسی افواج کی جانب سے داعش پر کیا جانے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔ اس سے پہلے جمعرات کے روز بھی روسی فضائیہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے داعش کے زیر تسلط شہر تدمر میں فضائی حملے کئے ہیں۔ یہ حملہ پچھلے ایک ہفتے کے دوران دوسرا حملہ ہے اور روسی دعوے کے مطابق اس حملے میں کسی تاریخی عمارت کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے۔

روسی وزارت دفاع کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ روسی بمبار طیاروں نے دولت اسلامیہ کے جنگجوئوں کے مورچوں پر بمباری کی ہے۔ بیان کے مطابق دولت اسلامیہ کی جن املاک کو نشانہ بنایا گیا ان میں ائیر ڈیفنس گن اور ایک ٹینک شامل ہیں۔

وزارت نے مزید بتایا کہ وہ دہشت گردوں کی صرف انہی املاک کو نشانہ بناتے ہیں جو کہ تاریخی اہمیت کی حامل عمارات سے کافی فاصلے پر واقع ہوں اور یہ املاک بھی ایک تاریخی چرچ سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر تھیں۔

روس نے شام میں اپنی فضائی کارروائیاں 30 ستمبر سے شروع کر رکھی ہیں جن میں روس کے مطابق بنیادی طور پر داعش کو نشانہ بنایا جاتا ہے مگر امریکا اور اس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ ماسکو بنیادی طور پر بشار الاسد کی فوج سے لڑنے والے معتدل شامی گروپوں کو نشانہ بنارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں