.

سعودی عرب:"النورۃ" نام خواتین میں مقبول کیوں؟

آل سعود خاندان سے عوام کی محبت کا منفرد اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کسی بھی ملک کے عوام اپنے بچوں اور بچیوں کے نام اہم حکومتی رہ نمائوں کے ناموں کے مطابق رکھ کر وہاں کے حکمرانوں سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ سعودی عرب کے عوام بھی آل سعود خاندان کے ساتھ کتنی محبت کرتے ہیں اس کا بھی اندازہ بچوں اور بچیوں کےناموں سے ہوتا ہے جو سعودی خاندان کے ناموں سے کافی حد تک مماثلت رکھتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کی نیشنل انفارمیشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے برسوں بالخصوص [ 1436ھ] کو مملکت میں پیدا ہونے والی بچیوں میں سے بیشتر کے ناموں میں "النورہ" نام سب سے زیادہ مقبول رہا۔ بچیوں کے سرفہرست ناموں میں "سارہ" قدیم نام ہونے کے باوجود آج بھی بدستور مقبول ہے۔ "النورہ" نام کی سعودی عوام میں مقبولیت اس بات کی علامت ہے کہ مملکت کے عوام آل سعود خاندان کی حالیہ اور دنیا سے رخصت ہوجانے والی شخصیات سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔

"نورۃ" کا معنیٰ

العربیہ نیوز چینل کے پروگرام"اہل عرب کے نقش قدم پر" کے میزبان ڈاکٹر عید الیحییٰ نے "نورہ" نام کے لغوی معانی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ "نورہ" نُور یعنی روشنی کے معنوں میں بلکہ کھلے ہوئے پھول کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ ایک فصیح و بلیغ نام ہے جو انگریزی میں "Noura" کہلاتا ہے۔ انگریزی میں بھی یہ نوخیز اور تروتازہ کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ سعودی عرب میں بچیوں کے لیے یہ نام اتنا مقبول کیوں ہے تو ڈاکٹر الیحییٰ کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کے عوام اپنے ہیروز کے ساتھ محبت کرتے ہیں تو اپنے بچوں کے نام ان کے ناموں کے مطابق رکھتے ہیں۔ سعود عرب میں اس نام کی مقبولیت کے اسباب واضح ہیں۔ یہاں کے عوام موجودہ سعودی مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز اور ان کے خاندان کے ساتھ ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں۔ نورہ شاہ عبدالعزیز کی بڑی ہمشیرہ کا نام تھا۔عربی الاصل ہونے اور سعودی خاندان کے ساتھ اس کی نسبت سے لوگ اپنے بچوں کے نام ان کے ناموں سےمنسوب کرتے ہیں۔ یہ شاہ عبدالعزیز مرحوم کی عظمت اور ان کی بزرگی کی علامت ہے۔ شاہ عبدالعزیز اپنی ہمیشرہ سے بے پناہ محبت کرتے تھے تو سعودی عرب کے عوام بھی ان سے محبت کا اٖظہار ان کا نام اپنا کر کرتے ہیں۔

"نورہ" کے بھائی ہونے پر فخر

سعودی عرب کی تاریخی دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ مملکت سعودی عرب کو متحد و یکجا کرنے والے شاہ عبدالعزیز کو یہ کریڈٹ جاتا ہےکہ ان کی وجہ سے مملکت میں آج بھی عوام ان کے خاندان کے ساتھ ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں۔ "نورہ" ایک ہلکا پھلکا، خوبصورت اور تیزی کے ساتھ مقبول ہوتا نام ہے۔ سعودی عرب میں بچیوں کے نام نورہ رکھ کر شاہ عبدالعزیز کی ہمشیرہ کو بھائی کو حوصلہ دینے اور اس کی ہمت بڑھانے پر خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔

نورہ اپنے بھائی سے عمر میں ایک سال بڑی تھیں۔ امام عبدالرحمان سنہ 1308ء میں معرکہ الملیدا کے بعد جب اپنے خاندان کے ہمراہ ریاض سے نکلے تو اس وقت نورہ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ اس دور میں خواتین کے لکھنے پڑھنے کا کوئی رجحان نہیں تھا۔ نورہ اس خاندان کی پہلی لڑکی تھی جس نے لکھنا پڑھنا شروع کیا۔ ریاض کو مملکت سعودی عرب میں شامل کرنے کے معرکے میں بھی نورہ کا اہم کردار ہے۔ جب شاہ عبدالعزیز کویت سے ریاض کی طرف روانہ ہوئے تو ان کی والدہ نے انہیں روتے ہوئے نصیحت کی تھی کہ "بیٹا اپنی قسمت پر شرمندہ شرمسار مت ہونا۔ اگر پہلی اور دوسری مرتبہ تمہیں شکست ہو گئی تو تیسری بار فتح ضرور ملے گی، کیونکہ مرد راحت وآرام کے لیے پیدا نہیں ہوتے"۔

امیر ریاض کی اہلیہ نورۃ بنت محمد بن سعود کہتی ہیں کہ نورۃ بنت عبدالرحمان مملکت کی تمام خواتین کے لیے مرجع ہمت ہیں۔ خواتین ہی مردوں کے لیے طاقت کا ذریعہ بنتی ہیں۔ نورۃ بنت عبدالرحمان بھی شاہ عبدالعزیز آل سعود کے لیے ایک بہن ہی نہیں بلکہ حوصلے اور ولولے کا ایک ذریعہ تھیں۔

انہوں نے کہا کہ نورۃ ہمارے لیے باعث عظمت وصد افتخار ہیں۔ میرا نام بھی انہی کے نام سے منسوب ہے۔ سعودی عرب میں ایسے بے شمار خاندان ہیں جن کی بیٹیوں کے نورہ نام ہیں اور یہ نام تیزی کے ساتھ پورے ملک میں مقبول ہو رہا ہے۔

نورۃ بنت محمد کا کہا تھا کہ شاہ عبدالعزیز مرحوم اپنی حکومت کے دوران خواتین سے متعلق امور کے لیے نورہ بنت عبدالرحمان سے مشورہ کیا کرتے تھے۔ نورہ ہی ملک میں حج اور عمرہ کے لیے آنے والی بیرون ملک کی خواتین کا استقبال کرتی تھیں۔