دوابشہ خاندان کا مکان نذرآتش کرنے پر یہودی دہشت گرد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی پولیس نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک کم سن فلسطینی بچے اور اس کے والدین کو زندہ جلانے کے واقعے میں ملوّث یہودی دہشت گرد گروپ کے ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔

اسرائیلی پولیس نے ایک بیان میں ان ''یہودی دہشت گردوں'' کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے لیکن یہ نہیں بتایا ہے کہ کل کتنے مشتبہ ملزموں کو حراست میں لیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک اسرائیلی عدالت نے ان کے ناموں اور دوسری تفصیل ظاہر کرنے پر پابندی عاید کردی ہے۔

بیان کے مطابق ''ایک یہودی دہشت گرد گروپ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو فلسطینیوں پر حملوں کے الزام میں گذشتہ چند روز کے دوران گرفتار کیا گیا ہے۔ان کے خلاف دوابشہ خاندان کے مکان کو نذر آتش کرنے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں''۔

یادرہے کہ غربِ اردن کے شہر نابلس کے نواح میں واقع ایک گاؤں دوما میں 31 جولائی کو یہودی انتہا پسندوں نے ایک فلسطینی خاندان کے مکان کو آتش گیر مواد سے حملہ کرکے نذرآتش کردیا تھا۔اس واقعے میں اٹھارہ ماہ کا علی دوابشہ موقع پر ہی زندہ جل گیا تھا اور اس کا بڑا بھائی اور والدین شدید زخمی ہوگئے تھے۔

مکان میں آتش زدگی سے علی کے والد سعد دوابشہ کے جسم کا اسّی فی صد حصہ جل گیا تھا اور وہ اسپتال میں کئی روز تک موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد 9 اگست کو چل بسے تھے۔علی کی والدہ ریحام دوابشہ بھی اس کے چار ہفتے کے بعد اسپتال میں اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئی تھیں۔خاندان کا واحد فرد علی کا بڑا بھائی احمد تب سے اسپتال میں زیر علاج ہے اور اس کی حالت بھی کوئی زیادہ بہتر نہیں ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس حملے کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا تھا اور ان کی سکیورٹی کابینہ نے دائیں بازو کے متشدد یہودی گروپوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیا تھا۔اسرائیلی حکومت نے مشتبہ یہودی جنگجوؤں کے خلاف بالکل اسی طرح کے تفتیشی حربے استعمال کرنے کی بھی اجازت دی تھی جس طرح کے فلسطینی مزاحمت کاروں کے خلاف استعمال کیے جاتے ہیں۔حکومت نے فلسطینیوں کے خلاف تشدد کے ذمے دار یہودیوں کو ٹرائل کے بغیر گرفتار کرنے کی بھی اجازت دی تھی۔

فلسطینی خاندان کے مکان کو نذرآتش کیے جانے کے بعد سے غربِ اردن میں کشیدگی پائی جارہی ہے۔اس واقعے کے ردعمل میں فلسطینیوں نے انتہا پسند یہودی آباد کاروں کی چیرہ دستیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور بعض فلسطینی مزاحمتی گروپوں نے انتہا پسند یہودیوں سے انتقام لینے کا بھی اعلان کیا تھا۔ان مظاہروں کے بعد یکم اکتوبر کو غربِ اردن میں تشدد کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں میں ایک سو سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ فلسطینی مزاحمت کاروں کے چاقو حملوں میں انیس اسرائیلی مارے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں