داعش گروپ ترکی کے راستے تیل اسمگل کرتا ہے: عراق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عراق کے وزیراعظم حیدرالعبادی بھی ترکی اور روس کے درمیان جاری تنازعے میں شامل ہوگئے ہیں اور انھوں نے روس کے الزام کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ داعش کی جانب سے اسمگل کیا جانے والا تیل ترکی کے راستے سے بیرون ملک جاتا ہے۔

عراقی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ بیان کے مطابق :''حیدرالعبادی نے جرمن وزیرخارجہ کے ساتھ ملاقات کے دوران داعش کے دہشت گرد گینگ کی تیل کی اسمگلنگ کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اس تیل کی زیادہ تر مقدار ترکی کے راستے اسمگل کی جاتی ہے''۔

عراقی وزیراعظم سے قبل روس نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کے خاندان پر یہ الزام عاید کیا تھا کہ وہ داعش سے شام کے تیل کی خریداری میں ملوّث ہیں۔ترکی نے اس الزام کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔ترک صدر نے گذشتہ ہفتے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ ترکی کے پاس ماسکو کے شام میں باغیوں سے تیل خریدنے کے ''ثبوت'' موجود ہیں۔

اس دوران ایرانی میڈیا نے بھی روسی مؤقف کی ترجمانی کرتے ہوئے اس کے دعووں کی تشہیر شروع کردی تھی۔اس کے ردعمل میں صدر رجب ایردوآن نے اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے ٹیلی فون پر بات کی تھی اور کہا تھا کہ اگر ایران نے ترکی کے خلاف الزام تراشی کا سلسلہ جاری رکھا تو اس کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ ترک صدر کے اس سخت دھمکی آمیز بیان کے بعد ایرانی میڈیا کی ویب سائٹس سے ترکی کے خلاف مواد کو ہٹا دیا گیا ہے۔

ایران کی مصالحتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ عراق اور شام میں موجود ان کے فوجی مشیروں کے پاس داعش کے تیل سے لدے ٹرکوں کے ترکی کی جانب جانے کی تصاویر موجود ہیں۔

درایں اثناء ترکی کے ایک سینیر عہدے دار نے کہا ہے کہ ان کے لڑاکا طیارے امریکا کی قیادت میں اتحادی فورسز کی فضائی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں لیکن اس نے 24 نومبر کے بعد سے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری نہیں کی ہے۔اسی تاریخ کو ترکی کے ایف سولہ لڑاکا طیاروں نے روس کا ایک لڑاکا جیٹ فضائی حدود کی خلاف ورزی پر سرحدی علاقے میں مار گرایا تھا۔

اس دوران امریکا نے کہا ہے کہ داعش کی جانب سے ترکی کے راستے تیل کی اسمگلنگ کوئی اہمیت کی حامل نہیں ہے۔اس بیان کے ردعمل میں روس نے امریکا پر معاملے میں ملمع کاری سے کام لینے کا الزام عاید کیا ہے۔

عراق کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات استوار ہیں اور اس کو شامی صدر بشارالاسد کا ہمدرد سمجھا جاتا ہے جبکہ بہت سے عراقی ملیشیائیں شام میں صدر بشارالاسد اور لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے شانہ بشانہ داعش اور دوسرے باغی گروپوں کے خلاف لڑرہی ہیں لیکن عراقی حکومت نے سرکاری سطح پر شامی صدر کی حمایت میں کوئی موقف اختیار کرنے سے گریز کیا ہے۔

عراقی حکومت کی حالیہ دنوں میں ترکی کے ساتھ شمالی عراق میں فوجی بھیجنے کے معاملے پر کشیدگی پیدا ہوگئی ہے اور عراقی وزیراعظم کے علاوہ دوسرے اعلیٰ عہدے دار ترکی سے ان فوجیوں کو واپس بلانے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ترک فوجی شمالی عراق میں داعش مخالف کرد اور عراقی فورسز کو تربیت دے رہے ہیں لیکن عراقی حکومت کا موقف ہے یہ فوجی اس کے علم میں لائے بغیر بھیجے گئے ہیں۔ لہذا انھیں واپس بلایا جانا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں