روسی فوج پر داعش کی عسکری معاونت کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

#شام میں صدر #بشار_الاسد کے خلاف سرگرم عالمی حمایت یافتہ فوج "#جیش_الحر" نے الزام عاید کیا ہے کہ ان کے ملک میں فوجی آپریشن میں مصروف روسی فوج شدت پسند تنظیم دولت اسلامی "داعش" کی عسکری مدد کررہی ہے۔

جیش الحر کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل #احمد_بری نے ’’العربیہ‘‘ کو بتایا روسی فوج کی جانب سے جیش الحر کو مدد فراہم نہیں کی گئی ہے مگر وہ کرد ملیشیا اور داعش کو فوجی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ داعش کے خلاف کارروائی کی آڑ میں روسی فوج جیش الحر کے مراکز پر بمباری کرتی رہی ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں روسی صدر ولادی میر #پیوٹن کی جانب سے شام کے جنگجوئوں کو مسلح کیے جانے سے متعلق بیان پر #ماسکو کے سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی سخت رد عمل سامنے آیا تھا۔

روسی صدر کا کہنا تھا کہ وہ شام میں جیش الحر اور دوسرے گروپوں کو بھی اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کررہا ہے۔ تاہم جیش الحر کی جانب سے فوری طور پر اس بات کی وضاحت آگئی تھی کہ روسی فوج کی طرف سے انہیں کسی قسم کی معاونت نہیں کی گئی ہے۔ البتہ روسی فوج کے جنگی طیارے ان کے ٹھکانوں پر اندھا دھند بمباری کرتے ہیں۔

شام میں جنگجو گروپوں کو مسلح کیے جانے سے متعلق بیان کے بعد صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا تھا کہ "سب جانتے ہیں کہ روس شام میں آئینی فوج کی مدد کررہا ہے" ان کا اشارہ شام میں صدر بشار الاسد کی وفادار فوج اور اس کی حامی ملیشیا کی جانب تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں