.

داعش کا ترجمان عراقی فوج کے فضائی حملے میں زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے ترجمان ابو محمد العدنانی عراق کے مغربی صوبے الانبار میں مبینہ طور پر ایک فضائی حملے میں زخمی ہوگئے ہیں۔

عراقی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''داعش دہشت گردوں کے ترجمان نام نہاد دہشت گرد ابو محمد العدنانی کے بروانا کے علاقے میں ایک فضائی حملے میں زخمی ہونے کی مصدقہ اطلاعات ہیں''۔

لیکن عراقی فوج کے اس بیان کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ''عدنانی کا چند روز قبل فضائی حملے میں زخمی ہونے کے بعد بہت زیادہ خون بہ گیا تھا۔اس کے بعد انھیں عراق کے شمالی شہر موصل منتقل کردیا گیا ہے''۔

بروانا اور اس کے نواحی علاقوں میں اس ہفتے کے دوران داعش کے ایک سو سے زیادہ جنگجو فضائی حملوں میں ہلاک ہوچکے ہیں۔عراقی فوج مغربی صوبے الانبار کے شہر حدیثہ کے نواح میں داعش کے خلاف زمینی کارروائی کررہی ہے جبکہ امریکا کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیارے داعش کے جنگجوؤں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔

ابومحمد العدنانی شام کے مغربی صوبے ادلب سے تعلق رکھتے ہیں۔وہ داعش میں شمولیت سے قبل عراق میں اس کی پیش رو القاعدہ کی شاخ سے وابستہ تھے اور اس ملک پر امریکی فوج کے قبضے کے دوران قید بھی رہے تھے۔

داعش کے خلیفہ ابو بکر البغدادی نے جون 2014ء میں اپنی خلافت کے اعلان کے بعد ابو محمد عدنانی کو اس سخت گیر گروپ کا مرکزی ترجمان مقرر کیا تھا اور انھوں نے ہی عراق اور شام میں جنگجوؤں کے زیر قبضہ علاقوں میں خلافت کے قیام کا اعلان کیا تھا۔

امریکا کے بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے ایک اسکالر اور کتاب ''داعش کی تباہی'' کے مصنف ولیم میکانٹس کا کہنا ہے کہ اگر عدنانی کے زخمی ہونے کی خبر درست ہے تو یہ داعش کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ'' اگر وہ زخمی ہوگئے ہیں تو ابوبکر بغدادی ایک قابل اعتماد مشیر سے محروم ہوگئے ہیں۔ان کا نام داعش کے خلیفہ کے ممکنہ جانشین کے طور پر بھی لیا جاتارہا ہے اور وہ بہت بڑے پروپیگنڈے باز ہیں''۔

عراق اور شام میں داعش مخالف فضائی مہم کے ترجمان امریکی فوج کے کرنل اسٹیو وارن نے عراقی فوج کی مذکورہ اطلاع کی تصدیق نہیں کی ہے۔البتہ انھوں نے کہا ہے کہ عدنانی اتحادی فوج کے کسی فضائی حملے میں ہدف نہیں تھا۔