.

امریکی فوج شام میں فضائی اڈہ قائم کررہی ہے: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق امریکی سپیشل فورسز اور ماہرین #داعش کے خلاف جاری مشن کے تحت شمال مشرقی #شام میں ایک فوجی اڈہ قائم کررہے ہیں۔

شامی حکام نے عالمی خبررساں ایجنسی "اے ایف پی" کو بتایا کہ #حسکہ صوبے میں رمیلان کے علاقے میں ایک مقامی ائیرپورٹ کی توسیع کا کام جاری ہے۔ شامی فوج کے مطابق قریبا 100 امریکی ماہرین کرد فورسز کی حفاظت میں لینڈنگ سٹرپ [فضائی پٹی] کی توسیع اور عمارتوں کی تعمیر نو کا کام کررہے ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ "اس ائیربیس کے ذریعے سے ہیلی کاپٹروں اور کارگو طیاروں کی آ٘مد ورفت شروع ہوجائے گی۔ اس ائیربیس کی سٹرپ کی لمبائی 2700 میٹر تک بڑھا دی گئی ہے جس سے سامان اور اسلحہ لانے والے جہازوں کی آمد ورفت آسان ہوجائے گی۔"

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی مگر ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج نے شام میں کسی فوجی اڈے کا کنٹرول نہیں سنبھالا ہے۔

امریکی سنٹرل کمانڈ کے ترجمان کرنل پیٹ رائیڈر کا کہنا تھا "شام میں امریکی مشن کے سائز میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ "شام میں موجود امریکی فورسز سامان اور اہلکاروں کی نقل وحرکت کے تیز ترین راستوں کی تلاش میں ہیں۔"

امریکی صدر براک اوباما نے پچھلے سال اکتوبر کے دوران شام میں 50 سپیشل فورسز کے اہلکاروں کی تعیناتی کی اجازت دی تھی جو کہ مقامی ملیشیائوں کی مشاورت کا کام کریں گے۔

شام کے فوجی ذرائع کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی تین ماہ سے زائد عرصے سے رمیلان ائیرفیلڈ پر کام کررہے ہیں۔

امریکی افواج داعش کے خلاف شمالی شام میں سرگرم کرد عرب اتحاد "شامی جمہوری فورسز" کی حمایت کرتی ہیں اور انہیں فضائیہ کے ذریعے سے مدد فراہم کرتی ہیں۔

شامی جمہوری فورسز کے ترجمان طلال سیلو نے اس بات کی تردید کی کہ رمیلان ائیرپورٹ پر امریکی فورسز نے قبضہ کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رمیلان کی فضائی پٹی کو زرعی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔