'شام: روس کی فضائی مہم کے دوران 1400 شہری ہلاک'
شامی #آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ #ماسکو کی جانب سے #شام میں جاری فضائی کارروائیوں میں پچھلے چار ماہ کے دوران قریبا 1400 شہری اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔
#برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں #داعش کے 965 جنگجوئوں کے ساتھ ساتھ دیگر مسلح گروپوں کے بھی 1233 جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔ آبزرویٹری شام میں موجود اپنے ذرائع سے یہ تمام معلومات اکٹھی کرتی ہے۔
شام میں امن کے لئے #جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے لئے جانے والے حزب اختلاف کے مرکزی گروپ "اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی" نے مذاکرات میں شمولیت سے قبل یہ شرط عائد کی تھی کہ روس اور شام کی جانب سے جاری بمباری کی مہم کو روکا جائے۔
#روس نے 30 ستمبر 2015ء کو اپنے اتحادی شامی صدر #بشار_الاسد کی حمایت میں ایک بڑی فضائی کارروائی کی مہم چلائی تھی۔ ان حملوں کے نتیجے میں 2015ء کے پہلے حصے میں فتح حاصل کرنے والے باغیوں کو کئی محاذوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں جنگ کا پلڑا اسد کے رخ میں جھک گیا۔
ماسکو کا کہنا ہے کہ وہ داعش کے شدت پسندوں کو نشانہ بنا رہا ہے مگر باغیوں اور مقامی افراد کے مطابق باغیوں کے قبضے میں موجود شہری علاقوں پر روسی فضائی حملوں میں سینکڑوں شہری ہلاکتیں بھی دیکھنے میں آئی ہیں۔
-
شام: ڈچ حکومت داعش مخالف کارروائیوں میں حصہ لینے کو تیار
امریکی حکومت ایک اور اتحادی کو منانے میں کامیاب ہوگئی
بين الاقوامى -
شام میں بمباری اور بھوک مذاکرات میں حائل: شامی اپوزیشن
شامی حزب اختلاف نے ملک میں روسی اور اسدی فوج کی بمباری اور شہریوں کو محصور کرکے ...
مشرق وسطی -
شام کے متحارب دھڑوں کو جنیوا مذاکرات میں شرکت کی دعوت
ترکی نے کرد جماعت کی شام امن عمل میں شرکت کی مخالفت کردی
بين الاقوامى