عراق : دہشت گردی کے الزام میں سعودی شہری کو پھانسی
عراقی حکام نے سزا پر عمل درآمد سے قبل آگاہ نہیں کیا : سعودی سفیر
عراقی حکام نے دہشت گردی کے الزام کے تحت سزائے موت پانے والے سعودی شہری عبداللہ عزام القحطانی کو پھانسی دے دی ہے۔ 2009ء میں بغداد میں گرفتار کیے جانے والے القحطانی کی سزا کے حکم پر گزشتہ جمعے کے روز عمل کیا گیا۔ مذکورہ شخص کے علاوہ 7 اور سعودی شہری بھی ہیں جن کی سزائے موت کے احکامات کی توثیق کردی گئی ہے اور ان کو آئندہ کچھ عرصے میں پھانسی دے دی جائے گی۔
عربی روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق عراق میں سعودی سفارت خانے کو ہفتے کے روز سرکاری طور پر اس پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔
سعودی شہری کی پھانسی پر تبصرہ کرتے ہوئے بغداد میں سعودی سفیر ثامر السبہان نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ " کو بتایا کہ سعودی عرب کو دوسرے ملکوں کے عدالتی احکامات پر کوئی اعتراض نہیں اور نہ وہ ان میں مداخلت کرتا ہے۔ السبہان کا مزید کہنا تھا کہ " انہوں نے عراقی حکومت سے وزارت انصاف کے ذمہ داران کے ساتھ ملاقات کی درخواست کی تھی تاکہ سعودی قیدیوں کے معاملے کو زیربحث لایا جائے اور ان کے حالات اور ان کی عدالتی کارروائیوں کی صورت حال سے آگاہ ہوا جائے... اس کے علاوہ ہمارے سفارت خانے کی جانب سے ذمہ دار بنائے گئے وکلاء اور نمائندوں کی موجودگی میں ان کیسوں کی دوبارہ عدالتی کارروائی پر بحث کی جائے اور ملزمان کو ان کے قانونی حقوق اور ان کے گھر والوں سے ملاقات کی اجازت کو یقینی بنایا جاسکے"۔
سعودی سفیر نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ "عراقی حکام نے سزا پر عمل درامد کے اگلے روز جا کر ہمیں اس سے آگاہ کیا۔ ایسے بہت سے سعودی قیدی ہیں جن کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ ان پر تحقیقات کے دوران دباؤ ڈالا گیا۔ اس لیے ہمیں اندیشہ ہے کہ انصاف کو یقینی نہیں بنایا جارہا ہے۔ تاہم ہم دہشت گردی، دہشت گردوں اور گمراہ سوچ کے حاملین کے خلاف ہیں اور ہم کسی طور اس پر راضی نہیں ہوسکتے کہ کوئی بھی انسان خواہ وہ کوئی بھی شہریت رکھتا ہو، پرامن اور محفوظ لوگوں کو دہشت زدہ کرے"۔
ذرائع نے واضح کیا کہ سعودی شہری عبداللہ عزام القحطانی پر بغداد میں سناروں کے قتل اور دیگر افراد کے ساتھ مل کر متعدد وزارتوں اور عمارتوں پر بم دھماکوں کے تحت فرد جرم عائد کی گئی۔ عراق میں سعودی شہریوں کو اپنے وکیلوں سے ملاقات میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر گرفتار شدگان سعودیوں کا دفاع جاری رکھنے کی صورت میں وکیلوں کو عراقی حکام کی جانب سے دھمکیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ بغداد میں سعودی سفارت خانہ ضروری کارروائی مکمل کر رہا ہے تاکہ عبداللہ عزام القحطانی کی نعش حاصل کرکے اسے مملکت میں القحطانی کے اہل خانہ کے حوالے کیا جائے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ عبداللہ عزام القحطانی کو اپنے گھر والوں کے نام وصیت لکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ وصیت میں اس نے گھر والوں کو صبر اور مملکت میں اس کی بیوی کا خیال رکھنے پر زور دیا ... اور ساتھ ہی اس قرض کو چکانے کی بھی ہدایت کی جو اس نے سعودی عرب سے کوچ کرنے سے قبل ایک بینک سے لیا تھا۔
ذرائع نے واضح کیا کہ عراق میں امریکی افواج کی موجودگی کے نتیجے میں القحطانی اپنے وطن لوٹنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ وہ پھر سے بغداد آگیا اور وہاں گرفتار کرلیا گیا۔ بعد ازاں اس کے اعترافات ریکارڈ کر کے عراقی میڈیا پر پیش کیے گئے۔ اس کو گرین زون میں قید رکھا گیا جہاں خفیہ جیلیں بھی ہیں اور ان کے اندر زبردستی اور جسمانی و نفسیاتی تشدد کے ذریعے اعترافات حاصل کیے جاتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق "عراقی مرکزی فوجداری عدالت نے مارچ 2011 میں سعودی شہری عبداللہ عزام صالح مسفر القحطانی کو دیگر 6 افراد کے ساتھ پھانسی کی سزا سنائی تھی، جس کی کورٹ آف کیسیشن کی جانب سے توثیق بھی کردی گئی"۔